خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 83
خطبات مسرور جلد پنجم 83 9 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007 ء فرمودہ مورخہ 2 /مارچ 2007ء بمطابق 2 رامان 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبے میں میں نے آنحضرت ﷺ کے اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے کامل پر تو ہونے کا کچھ ذکر کیا تھا۔کہ وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے رؤف و رحیم کہہ کر پکارا ہے، جو اپنوں اور غیروں کے لئے بے انتہا رحم کے جذبات لئے ہوئے تھا، آپ کی زندگی ان واقعات سے بھری پڑی ہے جب معمولی سے معمولی بات پر بھی آپ کا جذبہ رحم موجزن نظر آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا درد دل میں محسوس کرتے ہوئے یہ رحمۃ للعالمین اور رؤف و رحیم مخلوق کا درد دُور کرنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔گزشتہ خطبہ میں ہیں نے احادیث سے چند مثالیں پیش کی تھیں۔آج چند اور احادیث پیش کروں گا۔یہ مختلف مثالیں ہیں جو آپ کی سیرت کے اس پہلو پر روشنی ڈالتی ہیں۔لیکن عقل کے اندھے پھر بھی یہی کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ میں رحم کا جذ بہ نہیں تھا۔ہم دیکھیں گے کہ بعض ایسی معمولی باتیں ہیں جن پر دنیا کی نظر میں ایسے شخص کو جو اس مقام پر پہنچا ہو جہاں اس کے ماننے والے دیوانوں کی طرح سب کچھ اس پر قربان کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوں، ان باتوں کے کرنے کا کبھی خیال آ ہی نہیں سکتا۔آپ کے ماننے والوں کا ، مومنین کا آپ کے لئے جو جذ بہ تھا وہ دنیا کی نظر میں شاید دیوانگی ہو لیکن عشق و محبت کی دنیا میں یہ عشق و محبت کی انتہا ہے۔اس کی ایک مثال دیتا ہوں جس کو غیر نے بھی محسوس کیا اور اپنے لوگوں کو جا کر کہا کہ ان لوگوں کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے جو اس دیوانگی کی حد تک آپ سے عشق کرتے ہیں کہ آپ کے وضو کے پانی کے قطروں کو زمین پر پڑنے سے پہلے ہی اُچک لیتے ہیں۔اگر کوئی دنیا دار ہو تو اس اظہار کے بعد دوسروں کے لئے محبت و نرمی اور رحمت کے جذبات رکھنے کی بجائے خودسری اور خود پسندی میں بڑھ جائے۔لیکن ہم قربان جائیں اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے کہ آپ اس کے باوجو د رحمت کے جذبے کے ساتھ اپنے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لئے قربانیوں پر قربانیاں کر رہے ہیں، ان پر اپنی رحمت کے پر پھیلا رہے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے طریقے سکھا رہے ہیں۔اس خیال سے بے چین ہورہے ہیں کہ کہیں مجھ سے کسی کو کبھی تکلیف نہ پہنچ جائے۔اللہ تعالیٰ نے میرا نام رحمتہ للعالمین رکھا ہے تو رحمتیں اور شفقتیں مجھ سے نکلنی چاہئیں اور دوسروں کو پہنچنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ سے مومنوں کے لئے رحمت و مغفرت کی دعائیں مانگ رہے ہیں، ان کی تکلیفوں پر پریشان ہورہے ہیں۔کوئی ایسا نہیں