خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 490 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 490

490 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پھر آپ فرماتے ہیں: ”اس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہما را ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قومی کے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے۔اور کوئی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہے نہ اس کے تصرف سے۔نہ اس کے خلق سے اور ہزاروں در و داور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اس پاک نبی محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے۔سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا اور ایسے خدا کو پایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنایا۔اس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے۔جس کے بغیر کسی چیز نے نقش وجود نہیں پکڑا اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔وہ ہمارا سچا خدا بے شمار برکتوں والا ہے اور بے شمار قدرتوں والا اور بے شمار حسن والا ، احسان والا ، اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں“۔(نسیم دعوت روحانی خزائن جلد 19 صفحه 363 | پس ہمیں اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنے خدا سے اتنا تعلق پیدا کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے تعلق کو دیکھ کر اور اس کے ہمارے حق میں صفت عزیز کے اظہار کو دیکھ کر اور تمام دنیا میں نیکی اور تقویٰ کے قائم کرنے کی خواہش اور کوشش کو دیکھ کر اور ہمارے غلبہ کو دیکھ کر غیر کے منہ سے بھی یہ الفاظ نکلیں جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا ہے کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ (الحجر: 3) یعنی با اوقات وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا یہ چاہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔پس ہماری عبادتوں کے معیار، ہمارا خدا تعالیٰ پر انحصار اور ہمارا مقصد جب تک اس حد تک نہ چلا جائے کہ دوسرے مجبور ہوں کہ اس کا اظہار کریں ہمارا عبد بنے کا دعویٰ اور ہمارے مقاصد کے حصول کے لئے کوشش مکمل نہیں ہوگی۔یہ ٹھیک ہے کہ عبادتیں کسی کو دکھانے کے لئے نہیں کرنی۔نیکی اور تقویٰ کسی سے انعام کے لئے نہیں دکھانا۔لیکن اس لئے ضرور ہونا چاہئے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے سفیر ہیں اور ہمارا مقصد دنیا میں خدا اور رسول ﷺ کی بادشاہت قائم کرنا ہے۔آج کی دنیا میں یہ بہت بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج کو ہر احمدی کو قبول کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عابد اور موحد بننے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 21 تا 27 دسمبر 2007 ء ص 5 تا 8 )