خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 491

خطبات مسرور جلد پنجم 491 49 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء فرمودہ مورخہ 07 دسمبر 2007ء بمطابق 07 فتح 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا گزشتہ چند خطبوں سے صفت عزیز کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف آیات میں جو مختلف مضامین بیان کئے ہیں اُن کا ذکر کر رہا تھا۔جیسا کہ میں نے صفت عزیز کے مضمون کے شروع میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے صفت عزیز کا جہاں بیان فرمایا ہے ان آیات میں تقریباً نصف جگہ پر عَزِیز اور حکیم کو ملا کر بیان کیا ہے۔تو آج میں صفت حکیم کا بیان کروں گا۔گو کہ صفت عزیز کے ساتھ آیات کی وضاحت میں صفت حکیم کا بھی کچھ بیان ہو چکا ہے لیکن اس لفظ حکیم کے لغوی معنی اور ان معنوں کے اللہ تعالیٰ کی ذات کے تعلق میں یعنی لفظ حکیم جب خدا تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بولا جاتا ہے، جب اس کی صفت کا بیان ہوتا ہے، تو اس کے حقیقی معنی کیا ہیں، پہلے اس کا بیان صحیح طریقے سے نہیں ہو سکا ، وہ میں آج مختلف لغات اور تفسیروں سے بیان کروں گا۔لسان العرب میں لکھا ہے۔کہا گیا ہے کہ الحکیم حکمت والے کو کہتے ہیں۔عربی کے الفاظ یہ ہیں کہ قیل الْحَكِيمُ ذُو الْحِكْمَة یعنی حکمت والے کو حکیم کہتے ہیں اور الحكمة سے مراد یہ ہے کہ افضل ترین اشیاء پر ، افضل علوم کے ذریعہ اطلاع پانا۔اور اس کو بھی الحکیم کہتے ہیں جو مختلف امور کے اسرار ورموز کو مد نظر رکھ کر انہیں عمدگی اور مہارت سے بجالائے۔یعنی افضل ترین اشیاء بہترین اشیاء مثلاً پیدائش کے لحاظ سے ،خصوصیات کے لحاظ سے، بناوٹ کے لحاظ سے، مقام کے لحاظ سے،مرتبہ کے لحاظ سے، علم کے لحاظ سے ، غرض ہر لحاظ سے جو بہترین چیزیں ہیں ان کا کامل علم اور مکمل طور پر احاطہ کرنا۔یہ حکمت سے مراد ہے۔اور پھر ان کی گہرائی تک علم حاصل کرنا اور وَالحَکیم عالم اور صاحب حکمت کو بھی الحکیم کہتے ہیں۔پھر لکھا ہے کہ حدیث میں قرآن کریم کی صفت اس طرح بیان ہوئی ہے کہ وَهُوَ الذَّكُرُ الحَکیم یعنی یہ قرآن تمہارے لئے حاکم ہے اور تم پر حاکم ہے یا یہ ایسی محکم کتاب ہے جس میں کوئی اختلاف اور اضطراب نہیں۔صاف احکام ہیں، کوئی ابہام نہیں، جن سے کسی قسم کے نقصان کا احتمال کرتے ہوئے انسان ڈرے۔لیکن اس کے سمجھنے کے لئے تقویٰ شرط ہے۔صاف دل ہونا شرط ہے۔اس محکم کتاب کو ، جو خدائے حکیم کی طرف سے نازل ہوئی، سمجھنے کے لئے اپنی استعدادوں کے مطابق حکیم ہونا ضروری ہے تب ہی اس کے محکم ہونے کی سمجھ آئے گی۔