خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 37
37 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اب دیکھیں جانوروں سے کس طرح کے سلوک کی آپ تلقین فرماتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوامامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ نے فرمایا کہ جو رحم کرے خواہ کسی ذبح کئے جانے والے جانور پر ہی ہو، اللہ قیامت کے دن اس کے ساتھ رحم کا سلوک فرمائے گا۔الأدب المفرد باب 176 رحمة البهائم حديث (386 جانور کو ذبح کرتے وقت بھی رحم کا تقاضا ہے کہ تیز چھری ہو، تکلیف نہ ہو۔اور جلدی سے پھیری جائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میں بھیڑ کو جب ذبح کرتا ہوں تو میں اس پر رحم کرتا ہوں۔جس پر آپ نے فرمایا اگر تو نے اس پر رحم کیا تو اللہ بھی تم سے رحم کا سلوک کرے گا۔یہ بات آپ نے دو مرتبہ کہی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 مسند معاوية بن قرة حدیث نمبر 15677 ایڈیشن 1998ء بیروت) جانوروں کے ساتھ رحم کے سلوک کی کتنی اہمیت ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ نے ایک سفر میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو ایک شخص نے ایک پرندے کے گھونسلے سے انڈے اٹھا لئے تو جہاں رسول اللہ صلی اللہ تشریف فرما تھے آپ کے اوپر آ کر اس پرندے نے پھڑ پھڑانا شروع کر دیا۔آپ نے اپنے ساتھیوں (صحابہ) سے پوچھا کہ کسی نے اس پرندے کے انڈے اٹھا لئے ہیں؟ انڈے اٹھا کے تکلیف دی ہے؟ تو ایک شخص نے کہا: ہاں یا رسول اللہ میں ہوں جس نے اس کا انڈا اٹھایا ہے۔نبی کریم صلی اللہ نے فرمایا کہ اس پرندے کے ساتھ رحم کا سلوک کرتے ہوئے اس انڈے کو واپس رکھ دو۔الأدب المفرد باب 177 اخذ البيض من الحمرة حديث (387 پھر اسی طرح ایک اونٹنی کا قصہ آتا ہے۔آپ نے اس کی آنکھوں میں ایسی چیز دیکھی جس پر آپ نے فرمایا: اس پر ضرورت سے زائد بوجھ لا دا جاتا ہے۔اس پر اس کے مالک کو منع کیا۔تو جانوروں پر بھی رحم کا سلوک فرمانے کی آپ نے تلقین فرمائی کہ اللہ تعالیٰ پھر اس وجہ سے تم سے رحم کا سلوک فرمائے گا۔آنحضرت علی اللہ کے زمانے میں بعض دفعہ لوگ آپ کا جو رحمتہ للعالمین کا مقام تھا اس کا خیال رکھے بغیر آپ سے بعض مطالبات کر دیتے تھے۔مثلاً بددعا کرنے کے لئے کہتے کہ فلاں کے لئے بددعا کریں۔تو آنحضرت علیل یا اللہ عموماً اس طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔اگر کوئی اصرار کرتا تھا تو نہایت پیارے انداز میں نصیحت فرماتے تھے اور احساس دلا دیتے تھے اور پھر جس کے خلاف شکایت کی جارہی ہو اس کے لئے دعا بھی کرتے تھے۔اس کا ایک روایت میں ذکر ملتا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کے آزاد کردہ غلام ميناء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص آیا۔میرے خیال میں وہ قبیلہ قیس سے تھا، اس نے کہا اے