خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد پنجم 38 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء اللہ کے رسول ! حمیر پر لعنت کریں۔آپ نے اس سے اعراض کیا۔پھر اس نے دوسری طرف سے آکر یہی کہا۔آپ نے پھر اس سے اعراض کیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ حمیر پر رحم کرے۔ان کے منہ سلامتی ہیں اور ان کے ہاتھ لوگوں کے لئے کھانا مہیا کرنے والے ہیں اور وہ امن اور ایمان والے لوگ ہیں۔(ترمذی كتاب الدعوات باب في فضل اليمن حدیث نمبر 3939) تو دیکھیں کس خوبصورتی سے آپ نے اس آنے والے شخص کی اصلاح فرما دی۔بجائے اس کے کہ کچھ کہتے ، آپ نے ان کے لئے دعا کی۔اس کو بھی بتا دیا کہ دعا کرو کیونکہ یہی نیکی ہے۔اور یہی مومنوں کا آپس کا سلوک ہے جس سے محبت پیار اور رحم کے جذبات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔انسان کو انسان کی قدر ہوتی ہے۔پھر ایک دعا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دعا کی اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کا علم رکھنے والے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرا بندہ اور رسول ہے۔اگر تو نے مجھے میرے نفس کے سپرد کر دیا تو وہ مجھے برائی کے قریب کر دے گا اور نیکی سے دُور کر دے گا اور میں صرف تیری رحمت پر ہی بھروسہ کر سکتا ہوں۔پس تو میرے لئے اپنے پاس ایک وعدہ لکھ رکھ جسے تو میرے لئے قیامت کے دن پورا کرے۔یقینا تو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔جس شخص نے یہ دعا کی اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے قیامت کے دن یہ فرمائے گا کہ میرے بندے نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا پس اسے اس کے لئے پورا کر دو۔پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 95 مسند عبدالله بن مسعود۔حدیث نمبر 3916 ایڈیشن 1998ء بیروت) تو یہ دعا، ایک عہد، اس طرف بھی توجہ دلانے والا ہے کہ اپنے نفس کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ اللہ کے فضل اور رحم کی جب بھیک مانگ رہا ہے تو ایسے اعمال کی طرف بھی عموماً توجہ رہنی چاہئے جو اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہوں، اس کے بعد اگر کوئی کمیاں ، خامیاں رہ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے لیکن اصرار کر کے اگر کوئی صرف یہ کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھیک مانگتا ہوں اور زور ظالموں پر ہو، اس کے حکموں سے پیچھے ہٹنے والا ہو تو یہ پھر اس زمرہ میں نہیں آئے گا۔کیونکہ پہلے یہی کہا ہے کہ میں نفس کے سپرد نہ ہو جاؤں اور اگر یہ دعامانگیں گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نیکیاں کرنے کی بھی توفیق ملتی چلی جائے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور دعا ہے وہ بھی پیش کرتا ہوں۔خالد بن عمران روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ اپنے صحابہ کے لئے دعائیں کئے بغیر مجلس سے کم ہی اٹھتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں اپنی خشیت یوں بانٹ جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے۔( یہ دعا ہے کہ ایسی خشیت ہو جو نا فرمانی کے درمیان حائل ہو جائے۔اور ایسی اطاعت کی توفیق عطا فرما جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا