خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 436

436 خطبہ جمعہ 26 /اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، ان کے لئے سخت عذاب مقدر ہے اور اللہ کامل غلبہ والا اور انتقام لینے والا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اُن سے انتقام لیتا ہے جو بار بار کی نصیحت کے باوجود اور باوجود اس کے کہ تورات اور انجیل میں ( اس کو اگر سیاق و سباق سے پڑھیں تو ان میں ) بھی یہ ذکر ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو یعنی ان کی جو بنیادی تعلیم تھی وہ تو ایک خدا کی عبادت کی ہے۔بعد میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں اور بندے کو خدا بنایا گیا یا شرک کی تعلیم دی گئی۔پھر یہ بھی تعلیم تھی کہ بعد میں آنے والے کو جس نے خاتم الانبیاء کا اعزاز پاتے ہوئے آنا ہے اس کو بھی قبول کرنا ہے۔پھر بھی اگر عبادت کا حق ادا نہیں کرتے اور نہ صرف عبادت نہیں کرتے بلکہ شرک میں مبتلا ہو اور آنے والے کو قبول کرنے کی بجائے اس کی دشمنی میں بھی حد سے بڑھے ہوئے ہو تو پھر یا درکھو کہ ایسے منکرین پھر کامل غلبہ والے کی پکڑ اور عذاب کے نیچے آتے ہیں۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَانْتُمْ حُرُمٌ۔وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاء مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيَا بَلِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسْكِيْنَ اَوْعَدْلُ ذلِكَ صِيَامًا لِيَذُوقَ وَبَالَ اَمْرِهِ۔عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ۔وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللهُ مِنْهُ، وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُوانْتِقَام (المائدة : 96) کہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، شکار مارا نہ کرو جب تم احرام کی حالت میں ہو۔( یہ حج کے احکامات کے ساتھ ہے ) اور تم میں سے جو اسے جان بوجھ کر مارے تو اس کی سزا کے طور پر کعبہ تک پہنچنے والی ایسی قربانی پیش کرے جو اس جانور کے برابر ہو جسے اس نے مارا ہے۔اس کا فیصلہ تم میں سے دو صاحب عدل کریں یا پھر اس کا کفارہ مسکینوں کوکھانا کھانا یا پھر اس کے برابر روزے رکھنا ہے تا کہ وہ اپنے فعل کا نتیجہ چکھے، اللہ نے درگزر کیا ہے اس سے جو گزر چکا۔پس جو اعادہ کرے گا تو اللہ ان سے انتقام لے گا اور اللہ کامل غلبہ والا اور انتقام لینے والا ہے۔اب میں یہاں صرف دشمنوں یعنی مخالفین کا بیان نہیں کر رہا بلکہ وہ آیت لی ہے جن میں انتقام کا ذکر عزیز کے ساتھ ہے۔یعنی چار جگہ قرآن کریم میں یہ آیات ہیں۔اب یہاں بھی مومنوں کو یہ حکم ہے کہ یہ کام جس کے نہ کرنے کا حکم ہے وہ نہیں کرنا۔اگر کرتے ہو تو اس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔یہاں انتقام کا مطلب ظلم سے بدلہ لینا نہیں ہے جیسے کینہ ور ظلم سے بدلہ لیتا ہے، بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ اس قانون کو توڑنے کی سزا ملے گی اور اللہ عزیز ہے، غالب ہے اور برے کام کی سزا دیتا ہے۔پھر ایک جگہ مخالفین کے تعلق میں فرمایا ہے کہ فَلا تَحْسَبَنَّ اللهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُوانْتِقَامٍ (ابراهیم: 48 )۔پس تو ہر گز اللہ کو اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کرنے والا نہ سمجھ یقینا اللہ تعالیٰ کامل غلبہ والا اور ایک سخت انتقام لینے والا ہے۔یہاں رسول کو اور ماننے والوں کو تسلی دلائی ہے کہ مخالفین جیسا بھی زور لگا لیں ، جتنا چاہیں تدبیریں کرلیں، آخر کار ان کا انجام برا ہے کیونکہ انہوں نے اس خدا کے پیارے