خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 380
380 خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم اس زمانے میں مبلغین اور ان کی بیویوں نے بھی بڑی قربانی دی ہوئی ہے۔مرحومہ موصیبہ تھیں۔بڑی نیک خاتون تھیں۔منیر الدین صاحب شمس کی والدہ تھیں جو ہمارے وکیل التصنیف ہیں اور ان کے علاوہ بھی چار بیٹے ہیں۔دوسری خاتون سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ہیں۔ان کی بھی عمر تقریباً 95 سال تھی۔6 ستمبر 2007ء کو وفات ہوئی۔جنازہ ان کا ہو گیا ہے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی تھیں۔ان کا رشتہ بھی حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کہنے پر مولانا ابوالعطاء صاحب سے تجویز کیا تھا اور خود ہی نکاح پڑھایا تھا۔آپ بھی بڑی نیک عبادت گزار تھیں۔مولانا عطاء المجیب صاحب راشد جو ہمارے امام مسجد ہیں ان کی والدہ تھیں۔ان دونوں بزرگوں کا خلافت سے بھی بڑا گہرا تعلق تھا۔یہ یہاں لندن میں رہتی تھیں اور مجھے ملتی بھی رہتی تھیں۔ایک عجیب پیار، وفا اور اخلاص کا تعلق ان کی آنکھوں سے جھلکتا تھا۔آپ 1/8 کی موصیہ تھیں۔تیسری خاتون ناصرہ بیگم صاحبہ ہیں جو چوہدری سید محمد صاحب کی اہلیہ تھیں ، ان کی 84 سال کی عمر میں وفات ہوئی ہے۔یہ بھی ایک صحابی کی بیٹی تھیں جو موضع و نجواں ضلع گورداسپور میں رہتے تھے۔ان کا نام چوہدری فقیر محمد صاحب تھا۔ان کے والد 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت شہید ہو گئے تھے اور جب لوائے احمدیت کے لئے کپڑا تیار کیا جا رہا تھا تو ان کے والد نے خود اپنے ہاتھ سے کپڑا تیار کیا تھا اور بڑے نڈر داعی الی اللہ تھے۔یہ خود بھی بڑی نڈر داعی الی اللہ تھیں اور عورتوں کو اپنے ساتھ لے جا کر تبلیغ کرتی رہتی تھیں۔ان کے چار بیٹے ہیں ، جن میں سے ایک تو ہمارے مبلغ امریکہ ہیں داؤ د حنیف صاحب۔دوسرے ان کے بیٹے یہاں ہیں منور صاحب جو جماعت کے سیکرٹری امور عامہ ہیں۔یہ سب خواتین بڑی نیک، خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والی، دعا گو بزرگ تھیں۔اللہ تعالیٰ سب کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولادوں کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے اور قائم رکھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔( مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخه 5 تا 11 اکتوبر 2007ء ص 5 تا 7 )