خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 379
خطبات مسرور جلد پنجم 379 خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء پس یہ ہے روزہ دار کا مقصد جس سے اللہ کا قرب اور تقویٰ حاصل ہوتا ہے اور ایسے بندے کو اللہ تعالیٰ پھر بڑھ کر اپنی آغوش میں لے لیتا ہے، اسے اپنی معرفت عطا فرماتا ہے، اپنے انعامات سے نوازتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ کا یہ سچا وعدہ ہے کہ جو شخص صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ اس کی راہ کی تلاش کرتے ہیں وہ ان پر ہدایت اور معرفت کی راہیں کھول دیتا ہے۔جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : 70) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں“۔فرمایا کہ: ”ہم میں سے ہو کر سے یہ مراد ہے کہ محض اخلاص اور نیک نیتی کی بنا پر خدا جو کئی اپنا مقصد رکھ کر“۔(الحكم جلد 8 نمبر 18 مورخه 31/مئی1904ء صفحه2) یعنی ان کا مقصد خدا تعالیٰ کی تلاش ہوتا ہے وہ لوگ ہیں جو صحیح کوشش کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ خدا کی رضا کا حصول اپنا مقصد بناتے ہوئے اس رمضان میں سے گزریں اور ہمارے روزے خالصتہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں اور تقویٰ میں بڑھانے والے ہوں۔خدا کی معرفت بھی ہمیں حاصل ہو جو مستقل ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائے اور ہمیں ہر آن تقویٰ میں بڑھانے والی رہے۔حضور انور نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا:۔اس وقت میں چند مرحومین جن کی گزشتہ دنوں میں وفات ہوئی، گوان کے جنازے ہو گئے ہیں لیکن ان کے لئے اور ان کی اولادوں کے لئے بھی ان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ان کا بزرگوں سے تعلق ہے۔ایک تو ہیں محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ۔یہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم کی اہلیہ تھیں۔94 سال کی عمر میں 5 ستمبر 2007 ء کو ان کی وفات امریکہ میں ہوئی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی خواجہ عبید اللہ صاحب کی بیٹی تھیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ہی ان کا رشتہ حضرت شمس صاحب سے کروایا تھا۔1932ء میں ان کا نکاح ہوا تھا۔ان کی قربانیوں کی مثال دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1956ء کے لجنہ کے اجتماع کے موقع پر فرمایا تھا۔کہ ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں۔وہ شادی کے تھوڑے عرصے بعد یورپ گئے ، یورپ میں تبلیغ کے لئے چلے گئے تھے۔ان کے واقعات سن کر بھی انسان کو رقت آتی ہے۔ایک دن ان کا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہنے لگا کہ اماں ابا کسے کہتے ہیں۔سکول میں سارے بچے اتنا ابا کہتے ہیں ہمیں پتہ ہی نہیں کہ ہمارا اتنا کہاں گیا ہے۔کیونکہ وہ بچے ابھی تک تین تین، چار چار سال کے تھے کہ شمس صاحب تبلیغ کے لئے لندن چلے گئے۔یہاں لندن میں تبلیغ کے لئے رہے ہیں اور جب واپس آئے تو بچے 17-18 سال کے ہو چکے تھے۔تو انہوں نے بڑی قربانی سے بچوں کو پالا اور بغیر شکوہ لائے پیچھے علیحدہ رہیں۔اس وقت حالات ایسے تھے مبلغین کی فیملیاں ساتھ نہیں ہوتی تھیں۔