خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 323
خطبات مسرور جلد پنجم 323 خطبه جمعه 03 / اگست 2007 ء جماعت کے کام کرنے کے لئے ایک عجیب جذبہ ہوتا ہے۔یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ سامنے کیا ہے۔کام کا ارادہ کیا اور بس پھر اس میں کود پڑے اور یہ جذبہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں رہنے والے ہر احمدی میں ہے ہر ملک کی جماعت میں ہے۔بعض کارکنان اس دفعہ تو بارش کی وجہ سے سارا سارا دن اور ساری ساری رات بارش میں بھیگتے رہے ہیں لیکن اپنے سپر د جو کام تھے ان میں حرج نہیں ہونے دیا۔بعضوں کے پاس تو برساتیاں بھی نہیں تھیں بلکہ میں صدر خدام الاحمدیہ سے کہتا بھی رہا کہ کم از کم ان کو رین کوٹ (RainCoat) لے دیں کیونکہ چھتریاں لے کے تو پھر کام نہیں ہوسکتا تھا۔لیکن رین کوٹ بھی نہیں مل رہے تھے، بلکہ علاقے کی دکانوں ، لندن اور دوسرے شہروں میں جور بڑ کے فل بوٹ ہوتے ہیں جو ولنگٹن کہلاتے ہیں وہ بھی تقریباً میرا خیال ہے جلسے پر آنے والوں نے بھی اور والنٹیئرز نے بھی خریدے اور تمام دکانوں سے خالی ہو گئے۔تو ایک فائدہ ولنگٹن کی انڈسٹری کو ہمارے جلسہ سے یہ بھی ہو گیا کہ ان کی بکری ہو گئی۔اللہ تعالیٰ ان سب کارکنان کو بہترین جزا دے اور ان کے ایمان میں مزید ترقی دے اور ان کو آئندہ پہلے سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کی توفیق ملے۔پس آنحضرت صلی ایم کے اس ارشاد کے تحت کہ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ الله (سنن الترمذى | كتاب البر والصلة باب ما جاء في الشكر لمن احسن الیک حدیث نمبر (1954) یعنی جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔میں سب کا رکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ سب کو بہترین جزا دے۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے ان لوگوں کے بھی شکر گزار ہوتے ہیں جن سے انہیں کسی قسم کا فیض پہنچ رہا ہو اور ان معاونین نے اپنے آراموں کو تج کر بعض نے چوبیس گھنٹے لگا تار کام کیا یا شاید چوبیس گھنٹوں میں سے ایک دو گھنٹے سوتے ہوں۔لوگوں کو آرام پہنچانے کے لئے کام کیا۔پس جلسہ پر شامل ہونے والے ہر احمدی کا فرض ہے کہ ان کے شکر گزار بنیں اور شکر گزاری کا بہترین طریق یہ ہے کہ ان کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو پہلے سے بڑھ کر اپنے فضلوں کا وارث بنائے اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہے کسی کو اس کا تجربہ ہوا ہے تو ان کی غلطیوں کو بھول جائیں۔چھوٹی بچیاں ، عورتیں ، مرد سب نے بے نفس ہو کر یہ خدمات سرانجام دی ہیں اور ان کا رکنان سے بھی میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فوج میں شامل ہونے کی توفیق بخشی اور آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کی توفیق بخشی۔یا درکھیں آئندہ سال کا چیلنج بہت بڑا ہے پس اس جذبے سے ہمیشہ خدمت پر کمر بستہ رہیں اور کبھی اس کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔ایم ٹی اے کے کارکنان نے بھی چوبیس گھٹنے تمام پروگراموں کو بڑے احسن رنگ میں کوریج دی اس پر بے