خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 322
خطبات مسرور جلد پنجم 322 خطبه جمعه 03 اگست 2007 ء چاہئیں تا کہ بہتر سے بہتر کی طرف ہمارا قدم بڑھتا چلا جائے۔عمومی طور پر جلسہ کا انتظام بہت اچھا تھا، اور جب ہم اپنی کمزوریاں سامنے رکھیں گے تو مزید بہتر ہوگا انشاء اللہ۔شامل ہونے والوں اور غیر مہمانوں کی اکثریت نے اور بعد میں پولیس انتظامیہ نے بھی انتظامات کو سراہا ہے تعریف کی ہے اور ہمیں اس بات پر شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ٹریننگ کے خود سامان پیدا فرما دیے اور ہمیشہ کسی نہ کسی ذریعہ سے پیدا فرماتا رہتا ہے۔یہی ایک مومن کا کام ہے کہ کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہتری کی طرف قدم بڑھاتا رہے۔جیسا کہ میرا عموما طریق ہے جلسہ کے بعد کے خطبہ میں شکر کے مضمون کے تحت کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اس لئے آج میں تمام ناظمین منتظمین اور معاونین کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ سب نے بڑی محنت سے اور بہت اچھا کام کیا ہے۔مختلف شعبہ جات میں مختلف طبقات کے والنشیئرز (Volunteers) تھے۔کھانا پکانا، کھانا کھلانا کھانے کو مختلف قیام گاہوں میں پہنچانا، ٹرانسپورٹ کا انتظام اور اسی طرح صفائی کا انتظام، پانی کا انتظام، رہائش کا انتظام بے انتہا انتظامات ہیں ان میں مختلف والنٹیئر ز تھے۔ہر ایک نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی بساط کے مطابق بہت اچھا کام کیا ہے اور موسمی شدت یا روک ان کے کام میں روک نہیں بن سکی۔ہر ایک نے بغیر کسی عذر اور نخرے کے ہر قسم کا کام کیا ہے۔یہاں کے پیدائشی جن کے بارہ میں بعض کے ماں باپ کو فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ پتہ نہیں جماعت سے اعلیٰ معیاری وابستگی رکھیں گے یا نہیں، بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں ان سب نے بڑا اچھا مظاہرہ کیا۔تمام معاونین نے مزدوروں سے بھی بڑھ کر کام کیا، بعض نے شاید اتنا شدید کیچڑ جو وہاں حالت ہو گئی تھی پہلی دفعہ دیکھا ہوگا اور اس پر یہ کہ پھر صرف دیکھا نہیں اس کیچڑ میں کام کرنے کے لئے جانا بھی پڑا اور پھر کاروں کو اس کیچڑ میں سے نکالنا بھی پڑا اور جب کاروں کے پہیوں سے کیچڑ اڑتا تھا تو کیچڑ کی بوچھاڑ ہو رہی ہوتی تھی اور پیچھے دھکا لگانے والے کارکنوں کا کیچڑ کی وجہ سے حلیہ بگڑ جا تا تھا۔لیکن روزانہ رات ڈیڑھ دو بجے تک یہ والنٹیئرز اللہ کے فضل سے بڑی محنت سے کام کرتے رہے۔یوگنڈا کے جو وزیر آئے ہوئے تھے جنہوں نے اپنے صدر یوگنڈا کا پیغام بھی پڑھا تھا۔مجھے انہوں نے کہا کہ میں یہ معاونین اور یہ سارے کام کرنے والے کارکنان کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں کہ مختلف طبقات اور علمی قابلیت کے لوگ ہیں اور بغیر کسی دنیاوی فائدہ اور لالچ کے صرف جماعت اور خدا کی خاطر انتہائی محنت اور عاجزی سے ایسے کام کر رہے ہیں جن کو پیسے لے کر بھی شاید بعض لوگ کرنا پسند نہ کریں۔میں نے انہیں کہا کہ یہی تو احمدیت کی خوبصورتی ہے، یہی تو وہ انقلاب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں میں پیدا کیا ہے۔