خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد پنجم 270 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء کہ اگر فساد اور شر کو ختم کرنے کے لئے عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی مدداور نصرت تمہارے شامل حال رہے گی۔آج ہم دیکھتے ہیں بظاہر کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت مسلمان حکومتوں کے شامل حال نظر نہیں آ رہی ، بہت ہی بری حالت میں ہیں۔پھر احمدیوں پر جو ظلم ہو رہے ہیں مسجد میں گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔بعض جگہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے نافرمان بن رہے ہیں اور اسی وجہ سے برکت اٹھ رہی ہے۔آج دیکھیں پاکستان کا حال کیا ہے، جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ، تقریباً تمام ملکوں کا یہی حال ہے۔پس اگر حکومت نے ان جاہل مولویوں کو اب بھی لگام نہ دی تو یہ جنگ اللہ کے خلاف ہے۔جہاں تک احمدی کا سوال ہے، احمدی تو مسیح موعود کی تعلیم پر عمل کرنے کی وجہ سے سختی کا جواب سختی سے نہیں دیتے کیونکہ جس حکومت میں رہ رہے ہیں، اس کے قانون کی پابندی کی وجہ سے ٹھیک ہے ظلم سہہ لیتے ہیں، صبر کر رہے ہیں۔اور یوں۔بھی اب مسیح موعود کے زمانے میں توپ و تفنگ کی جو ظاہری جنگ ہے اس کی ممانعت ہے۔احمدیوں نے تو اینٹ کا جواب اینٹ سے یا پتھر کا جواب پتھر سے نہیں دینا لیکن خدا تعالیٰ ضرور اپنے وعدے کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد کو آئے گا۔ان اسلامی ملکوں کو جہاں جہاں بھی احمدیوں پر ظلم ہو رہا ہے یا احمدیوں کے خلاف قانون پاس کئے جاتے ہیں ہوش کرنی چاہئے کہ ان ظلموں کی انتہا کی وجہ سے یہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض سے بھڑا کر کیا جاتا ہے تو اس ناشکری کی وجہ سے یہ بات ان پر بھی پڑ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ صرف مسلمانوں کے لئے حکم ہے کہ اگر مسلمان مظلوم ہوں گے تو ان کو اجازت ہے کہ تلوار اٹھا ئیں یا یہ امن و سلامتی صرف مسلمانوں کے حقوق قائم کرنے کے لئے ہے بلکہ ہر مذہب والے کے لئے یہ حکم ہے۔وہ بھی اگر مظلوم ہے تو اللہ تعالیٰ ان کا بھی انتظام کرے گا۔اور احمدی جو نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ زمانے کے امام کو ماننے کی وجہ سے جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا آنحضرت ﷺ کے حکموں پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے ہیں۔جو کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کو سب سے زیادہ اپنے دلوں میں قائم کرنے والے اور اس کی روح کو جاننے والے ہیں اور سب سے زیادہ اس کلمے پر ایمان لانے والے ہیں ، اُن پر ظلم کر کے ، ان کی مسجدوں کو گرا کر یہ لوگ خود اپنے آپ کو اس حدیث کے نیچے لاتے ہیں جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان دوسرے مسلمان پر حملہ کرتا ہے وہ مسلمان نہیں رہتا۔اور مسلمان کی تعریف جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں یہی ہے کہ وہ کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پر یقین رکھتا ہو اور اس کا اس پر ایمان ہو۔پس مسیح موعود کی جماعت نے تو کسی پر بھی ہاتھ نہیں اٹھانا کیونکہ اس وقت ہم حکومتوں کے ماتحت تو ہیں لیکن حکومت ہمارے پاس نہیں ہے اور مسیح موعود کے زمانے میں جہاد کی اس لحاظ سے ویسے بھی ممانعت کر دی گئی ہے کہ سختی