خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 185
خطبات مسرور جلد پنجم 185 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء میں جہاز پر چڑھانے کے لئے آئے تو جب تک جہاز نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا مسلسل جہاز کو دیکھتے رہے اور دعائیں کرتے رہے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ کے اس تعلق کو حضرت بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب بیان کرتی ہیں کہ جب کاغذات مکمل ہو گئے اور شادی کے ایک سال کے بعد میں قادیان جانے لگی تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاص طور پر مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ ام ناصر کے مکان میں رہنا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کثرت سے قدم پڑے ہیں اور اس کے صحن میں حضور نے درس بھی دیا ہوا ہے ( غالباً حضرت مصلح موعودؓ کا درس ہی مراد ہوگا، واضح نہیں ہے ) حضرت میاں وسیم احمد صاحب کی خدمات صدر انجمن کی جائیدادوں کو واگزار کرانے کے لئے بھی بڑی نمایاں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کا ہونے کی وجہ سے، آپ کا پوتا ہونے کی وجہ سے، حکومت نے اس بات کو بھی کنسیڈر (Consider) کیا اور انجمن کی جائیداد واپس ملی ورنہ کئی بہانے ہو سکتے تھے۔اس کے لئے آپ نے بڑے بڑے افسران سے رابطے کئے، بلکہ اس زمانے میں وزیر اعظم ہندوستان جواہر لعل نہرو تک سے رابطے کئے اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ، اس کے مثبت نتائج نکلے۔1963ء میں آپ کی والدہ محترمہ سیدہ عزیزہ بیگم صاحبہ کی وفات ہوئی اور بڑی مشکل سے آپ کو پاکستان آنے کی اجازت ملی اور آپ تدفین کے وقت پہنچ سکے۔پھر 1965ء میں پاکستان بھارت کی جو جنگ ہوئی اس میں رابطے بالکل ختم ہو گئے تھے، ڈاک اور ٹیلیفون وغیرہ کے انڈیا اور قادیان سے سب رابطے ختم تھے اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیماری کی اطلاع بھی ریڈیو پاکستان کی خبروں سے پتہ لگی تھی اور پھر وفات کی اطلاع بھی ریڈیو پاکستان سے ہوئی۔پھر انہوں نے جماعت سے رابطے کئے اور پھر سری لنکا سے کنفرمیشن ہوگئی۔تو بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے وقت بھی یہ قادیان میں تھے۔اس کے بارہ میں لکھنے والے لکھتے ہیں کہ جب حضرت مصلح موعود کی وفات ہوئی تو انہوں نے تمام درویشان کو مسجد مبارک قادیان میں اکٹھا کیا اور وہاں تقریر کی اور درویشان قادیان کو شدید صدمہ کے وقت صبر اور دعاؤں کی تلقین کی اور پھر فرمایا کہ میری ہمیشہ یہ دعا اور تڑپ رہی ہے کہ اے خدا جب بھی حضرت ابا جان یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آخری وقت آئے تو میں ان کے پاس موجود ہوں۔مگر ایسے حالات میں حضور کی وفات ہوئی ہے کہ میرا جانا ممکن نہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سمجھایا کہ قادیان اور ہندوستان کے سارے احمدی افراد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بچوں کی طرح ہی ہیں سب کو جدائی کا یکساں صدمہ پہنچا ہے تم بھی ان کے ساتھ جدائی کا ویسا ہی