خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 516
516 خطبہ جمعہ 21 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اور روحانی ترقی بہت دور تک جانی ہے اور ایک زمانہ آئے گا جب یہ منازل حاصل ہوں گی۔تو آپ نے یہ دعا کی کہ اے میرے خدا جب تیری تقدیر کے تحت وہ زمانہ آئے جب روحانی علمی اور ذہنی جلا اور ترقی کا زمانہ ہو تو اے میرے خدا! اس وقت روحانی ترقیات کے حصول کے لئے جو نبی تو مبعوث فرمائے ، انسان کو نئے علوم سے متعارف کرانے اور اپنی ہستی کے ثبوت کے لئے دلائل سے پر تعلیم تو جس نبی پر اتارے، کائنات کے اسرار ورموز جس نبی کے ذریعہ سے ظاہر فرمائے ، وہ رسول ، وہ آخری شرعی کتاب کو لانے والا رسول اے خدا! میری دعا ہے کہ وہ میری نسل میں سے ہو اور بنی اسماعیل کی نسل میں سے ہو اور اس کے لئے آپ نے چار چیزیں اللہ تعالیٰ سے اس عظیم رسول کے لئے مانگیں۔پہلی بات آپ نے یہ عرض کی کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ اينك جوان پر تیری آیات تلاوت کرے۔دوسری بات یہ کہ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب انہیں کتاب کی تعلیم دے۔تیسری بات یہ کہ کتاب کی تعلیم کے ساتھ حکمت سکھانے والا بھی ہو اور پھر چوتھی بات یہ کہ جن لوگوں میں مبعوث ہو اور جو قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں ان سب کا تزکیہ بھی ہمیشہ کرنے والا ہو اور ایسی تعلیم ہو جس کے ذریعہ سے ہمیشہ تزکیہ ہوتا چلا جائے۔اور آخر میں یہ دعا کی کہ اے خدا! تو الْعَزِيزِ ہے، کامل غلبہ والا ہے اور الْحَکیم ہے، بڑی حکمت والا ہے۔تیری جیسی عزیز ہستی ہی ایسا کامل انسان پیدا کر سکتی ہے اور تجھ جیسی حکیم ہستی ہی اُس نبی کو وہ حکمت عطا کر سکتی ہے جس سے وہ یہ تمام امور سر انجام دے سکے۔پس حضرت ابراہیم نے یہ دعا کی کہ میری اس قربانی اور میری بیوی اور بیٹے کی اس قربانی کو ہم تبھی تیری درگاہ میں قبول سمجھیں گے جب یہ تمام خصوصیات رکھنے والا سب نبیوں سے افضل اور تیرا پیارا ہماری نسل میں سے ہو اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہو۔جس طرح تو نے یہ احسان کیا ہے کہ خانہ کعبہ کی نشاندہی کر کے اس کی تعمیر ہم سے کرائی ہے تا کہ اس جگہ کو مرجع خلائق بنا دے، لوگوں کے آنے کی جگہ بنادے۔اسی طرح یہ بھی ہماری دعا قبول فرما کہ تیرے علم کے مطابق جو عظیم رسول مبعوث ہوتا ہے جس نے آکر آئندہ نسل انسانی کو اپنے کمال کے نمونے دکھانے ہیں وہ ہماری نسل میں سے ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سورۃ بقرہ میں جس میں اس آیت کا بیان ہوا ہے جو حضرت ابراہیم کی دعا تھی ، اسی میں آگے جا کے فرماتا ہے کہ ابراہیم نے دعا کی تھی اس رسول کیلئے جو عظیم رسول اور عظیم شریعت لانے والا رسول ہے، ہمیں نے وہ دعا قبول کر لی اور تم میں وہ رسول بھیج دیا۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَمَا اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمُ ايتَنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ (البقرة : 152) اور پھر قرآن کریم میں سورہ جمعہ میں اس بات کا دوبارہ ذکر کیا ہے۔فرمایا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ