خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 500
500 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم تحریریں لے آؤ جو میرے خلاف ہیں اگر خدا تعالیٰ کا فیصلہ میرے ساتھ ہے تو کوئی پرواہ نہیں کہ تم کتنا شور مچاتے ہو۔تمہارے دنیاوی منصب تو لوگوں کی حمایت کے مرہون منت ہیں اور جب اسمبلیاں اور عدالتیں اور حکومتیں فیصلہ کرتی ہیں تو شور مچانے والوں کی اور بعض اوقات شرپسندوں کی طاقتوں کو دیکھتی ہیں لیکن میرا خدا جو غالب بھی اور حکیم بھی ہے جب فیصلہ دیتا ہے تو وہ فیصلہ ہے جو ہماری دنیا و آخرت سنوار نے والا فیصلہ ہے۔پس ایسے خدا کے علاوہ مجھے کسی منصف کی ضرورت نہیں ہے۔آج ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے ہیں۔آج ہم قرآنی پیشگوئیوں کو پورا ہوتا دیکھ کر اس یقین پر قائم ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام وہی مسیح و مہدی ہیں جن کے آنے کی پیشگوئی تھی اور خدا کی کتاب حضرت عیسیٰ کو فوت شدہ قرار دے کر آنے والے مسیح کی آمد کا اعلان کر رہی ہے۔خدا کی کتاب آنحضرت ﷺ کی اُمت میں سے ہی مسیح و مہدی کی آمد کا اعلان کر رہی ہے۔تو پھر عدالتیں یا حکومتیں یا اسمبلیاں کیا حیثیت رکھتی ہیں کہ ہم ان کے فیصلوں کو تسلیم کریں اور خدا تعالیٰ کے فیصلے کو جو احْكُمُ الْحَاكِمِین ہے رو کر دیں۔پس اس فیصلے کو جو عزیز حکیم خدا نے کیا ہے رو کرنے والے رد کئے جائیں گے۔ہمیں زور لگانے والے، یا ہمیں کہنے والے کہ اس کو رڈ کر دو، وہ خود ر د کئے جائیں گے اور ہم انشاء اللہ ہمیشہ کی طرح کامیابی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں گے۔اس لئے چاہے وہ پاکستان کی اسمبلی ہو یا کسی اور ملک کی اسمبلی ہو ہمیں اُن کے فیصلوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں۔کیونکہ ان کے فیصلے تقویٰ سے عاری اور جہالت کے پلندے ہوتے ہیں۔آج اگر کسی حکم نے فیصلہ کرنا ہے اور ہمیشہ سے جو حکم فیصلہ کرتا آیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور وہی سب سے بڑا حکم ہے، منصف ہے، بیج ہے جس نے فیصلے کئے ہیں اور ان کے فیصلوں کے مطابق ہم اسی دین پر قائم ہیں جو محد مصطفی ﷺ لے کر آئے تھے اور انشاء اللہ مرتے دم تک قائم رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تقویٰ پر چلتے ہوئے اس حکیم خدا کی صفت حکیم کو بھی اپنانے کی توفیق دے اور ہمیشہ حکمت سے چلنے والے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کے احکامات پر حقیقی طور پر تقویٰ سے چلتے ہوئے عمل کرنے والے ہوں۔ضمنا میں یہ بھی بتا دوں کہ آج کل ایم ٹی اے پر ایک پروگرام مولانا دوست محمد صاحب شاہد دے رہے ہیں جو 1974ء کی اسمبلی کے بارے میں حالات پر ہے۔وہاں ماشاء اللہ بڑی حقیقت بیانی ہورہی ہے۔خوب کھول کھول کر ان کے کچے چٹھے بیان ہو رہے ہیں اور مخالفین کے پاس ان کا جواب نہ اُس وقت تھا جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث اسمبلی میں پیش ہوئے تھے، نہ آج ہے اور نہ بھی ہو سکتا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ احمد یت ہی ہے جس نے ہمیشہ صحیح راستے پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا اظہار اپنے ہر ماننے والے پر بھی کرنا ہے اور دنیا میں بھی پھیلانا ہے۔( مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 28 دسمبر 2007 ء تا 3 جنوری 2008 ء ص 5 تا 8 )