خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 471

471 خطبات مسرور جلد پنجم پہلے سے زیادہ کوشش کے ساتھ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر خدا کو نہیں پہچانو گے ، اگر اس کے قوانین پر عمل نہیں کروں گے تو یہ بے چینی کبھی ختم نہیں ہوگی، یہ فساد کبھی ختم نہیں ہوں گے، یہ ارضی اور سماوی آفات کبھی ختم نہیں ہوں گی۔اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کے ساتھ استہزاء اور حد سے زیادہ زیادتیوں میں بڑھنا اور اس پر ڈھٹائی اور ضد سے قائم رہنا یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو کبھی دنیا کا امن اور سکون قائم نہیں رہنے دیں گی۔اب آفات کو ہی لے لیں ، جہاں ان کی شدت بڑھ رہی ہے، ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ان موسمی آفات کو زمینی ، موسمی اور مختلف تغیرات کی وجہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنے والی چیز ہے اور دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ سو سال پہلے ایک شخص نے دعوی کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور میری تائید میں اللہ تعالیٰ زمینی اور سماوی نشانات دکھائے گا۔زلزلے آئیں گے، آفتیں آئیں گی ، تباہیاں ہوں گی اگر لوگوں نے توجہ نہ دی۔اور اس کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ باتیں سچ ہوتی نظر آ رہی ہیں۔زلزلے بھی اس کثرت اور اس شدت سے آ رہے ہیں جن کی مثال سو سال پہلے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔اب گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں بڑا سخت طوفان آیا۔کہتے ہیں کہ 47 سال بعد ایسا طوفان آیا ہے۔اس میں ایک اندازے کے مطابق 15 ہزار اموات متوقع ہیں۔متوقع اس لئے کہ ابھی تک سیلاب زدہ علاقوں میں، طوفان زدہ علاقوں میں مکمل طور پر رسائی نہیں ہوسکی کہ نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔6لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔اس علاقے میں احمدیوں کی بھی کچھ تعداد ہے، جن کا مالی نقصان ہوا ہے۔ظاہر ہے طوفان جب آتے ہیں تو مالی نقصان تو ہوتا ہے۔لیکن ابھی تک اطلاع کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ احمدیوں کو محفوظ رکھے۔ہیومینیٹی فرسٹ کے رضا کار ، یو کے سے بھی اور کینیڈا سے بھی مدد کا سامان لے کر وہاں جا رہے ہیں۔جماعت ہمدردی کے جذبے کے تحت وہاں کام کرنے جا رہی ہے اور ہر اس جگہ پہنچتی ہے جہاں بھی کوئی ستم زدہ یا مصیبت زدہ مدد کے لئے پکارے۔گزشتہ ایک دو سال سے احمدیوں کے حالات بنگلہ دیش میں مُلاں نے کافی تنگ کئے ہوئے ہیں۔جلسے جلوس توڑ پھوڑ مسجدوں کو نقصان پہنچانا۔اب مُلاں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ ان پڑھ اور معصوم عوام کو اسلام کے نام پر ابھار کر ظلم کروائے جائیں اور وہ کروارہے ہیں۔لیکن اس کے باوجود جماعت ہر ضرورت مند کی مدد کرتی ہے کیونکہ یہ ایک احمدی کی امتیازی خصوصیت ہے اور ہونی چاہئے اور یہی فرق ہے جو ایک احمدی اور غیر میں ہے۔اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میرے کاموں میں سے ایک اہم کام بنی نوع سے ہمدردی ہے۔پھر بنگلہ دیش کیا، پاکستان جہاں احمدیوں کے خلاف ایک ظالمانہ قانون بنا کر احمدیوں کی مذہبی آزادی کے حق