خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 33

33 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم راہب نے کہا نہیں اب تو کوئی صورت نہیں ہے۔ایسا ظالم انسان جو اتنے بے گناہوں کا قاتل ہو وہ تو معاف نہیں ہو سکتا۔اس نے کہا جہاں ننانوے قتل کئے تھے (ایک اور سہی)۔اس کو بھی قتل کر دیا کہ سوپورے ہو جا ئیں۔اور پھر اس کے بعد مسلسل اس بارے میں پوچھتا رہا کہ کوئی معافی کی صورت ہے؟ اسے ایک شخص نے کہا کہ فلاں بستی میں جاؤ تو وہاں ایک بزرگ ہے، اس سے پوچھو وہ شاید تمہاری کوئی رہنمائی کر دے۔وہ جا رہا تھا تو اس کو راستے میں موت آ گئی۔جب موت کا وقت آیا تو اسے تھوڑی دیر پہلے احساس ہوا۔وہ گرنے لگا تو اس نے اپنے سینے کو اس بستی کی طرف کر دیا۔جب فوت ہو گیا تو رحمت اور عذاب کے فرشتے ، ہر ایک اس کو اٹھانے کے لئے پہنچ گئے کہ کہاں لے کے جانا ہے۔وہ جھگڑنے لگے۔رحمت کے فرشتے کہتے تھے کہ نہیں یہ بخشش کی طرف جارہا تھا، اپنی اصلاح کے لئے جار ہا تھا اس لئے ہم اس کو لے کے جائیں گے۔عذاب کے فرشتے کہتے تھے کہ کیونکہ بہت ظالم انسان تھا اس کو ہم لے کے جائیں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو جس کی طرف وہ جارہا تھا حکم دیا کہ اس کے قریب ہو جاؤ اور جس بستی۔دور جارہا تھا، اُسے حکم دیا کہ اس سے دُور ہو جا۔پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ ان دونوں بستیوں کے درمیان فاصلے کی پیمائش کرو تو وہ ہستی جس کی طرف وہ جارہا تھا وہ ایک بالشت اس کے قریب تھا۔اس طرف کے فاصلے میں ایک بالشت کی کمی تھی۔تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔سے وہ (بخاری کتاب احاديث الأنبياء باب 52/54 حدیث نمبر 3470) تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ڈھٹائی سے گناہوں پر مصر رہنے والے کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر بھی دی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمت کو سمیٹنے کے لئے ضروری ہے کہ اس طرف قدم بھی بڑھنے شروع ہو جا ئیں۔جب گناہوں کا احساس ہو جائے ، جب آدمی غلطی کر لے تو پھر گناہ کا احساس ہونے کے بعد اس کی رحمت اور بخشش کی طلب بھی شروع ہو جائے۔ان سے بچنے کی کوشش بھی شروع ہو جائے۔پھر ہی یہ امید بھی رکھنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دلائی ہے کہ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ۔(الزمر: 54) پھر دیکھیں رحمۃ للعالمین کا اپنے صحابہ کو نصیحت کا انداز اور ان میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا ادراک پیدا الله کرنے کا طریق۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم علم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا بچہ تھا۔وہ اسے اپنے ساتھ چمٹانے لگا۔اس پر نبی کریم علم نے فرمایا : کیا تو اس سے رحم کا سلوک کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا جی حضور ، آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا تو اس سے کرتا ہے۔اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔الأدب المفرد باب رحمة العيال حدیث نمبر 382 ایڈیشن (2003ء)