خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 34
34 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم آجکل شاید اس بات کو کوئی اتنا محسوس نہ کرے لیکن عرب معاشرے کا جن کو پتہ ہے وہ جانتے ہیں کہ ان کی طبیعتوں میں کتنا اکھڑ پن تھا، کتنی کرختگی تھی۔آنحضرت عیب اللہ کی بعثت سے پہلے شاذ ہی کوئی انسان اپنے بچوں سے میں پیار کا سلوک کرتا تھا۔ایک دفعہ آنحضرت معیہ اللہ اپنے بچوں کو پیار کر رہے تھے۔ایک شخص آیا بڑی حیرانگی سے پوچھنے لگا کہ آپ بچے کو پیار کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔کہتا ہے کہ میرے تو دس بچے ہیں میں نے تو آج تک کسی کو پیار نہیں کیا۔آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل کے اندر سختی بھری ہوئی ہے تو میں اس پر کیا کر سکتا ہوں۔(صحیح بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد وتقبيله حدیث نمبر 5998،5997) | ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور تم بخشش کا سلوک کرو، اللہ تم سے بھی بخشش کا سلوک کرے گا۔ایسے لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ہلاکت ہے ان اصرار کرنے والوں پر جو جانتے بوجھتے ہوئے اپنے کئے پر اصرار کرتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 مسند عبدالله بن عمرو بن العاص حدیث نمبر 7041 ایڈیشن 1998ء عالم الكتب ، بيروت) پس یہ بدبختی جس کا آنحضرت صلی اللہ نے ذکر فرمایا ہے جس کو میں نے شروع میں بیان کیا تھا اور جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بھی کہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے بتایا تھا۔آپ نے وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ :(الزلزال : (9) کی تشریح میں فرمایا تھا کہ اس اصرار کی وجہ سے پھر اس کو اس بات کے شتر کا بدلہ ملتا ہے اور وہ رحمانیت سے محروم ہو جاتا ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرے گا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔(بخاری کتاب التوحيد باب قول الله تبارك وتعالى قل ادعوا الله او ادعو الرحمن۔۔۔حدیث نمبر 7376) پس آپس کے تعلقات میں صلہ رحمی کا خیال رکھنا چاہئے، دوستی کا خیال چاہئے ، ہمسائیگی کا خیال رکھنا چاہئے ، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے ، رحم کے جذبات دل میں ہونے چاہئیں۔لیکن یہاں ایک وضاحت کردوں کیونکہ عموماً اس مضمون پر کوئی بات کروں تو اکثر ایسے لوگ جو سزایافتہ ہیں ان کے خطوط آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ کہتے تو رحم کے بارے میں ہیں لیکن ہم پر رحم نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام تعلقات میں ایک دوسرے کو رحم کی تلقین فرمائی ہے۔اسی طرح عام معاملات میں عمومی صرف نظر نظام جماعت کے لئے بھی ہے، خلیفہ وقت کے لئے بھی ہے لیکن جو لوگ کسی چیز پر اصرار کرنے والے ہوں، جس کا میں نے پہلے ذکر کر دیا۔ان کو پھر اگر سزامل جائے تو وہ سزا ہے، اس کو بھی لینا چاہئے۔