خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 415

خطبات مسرور جلد پنجم 415 خطبہ جمعہ 12 اکتوبر 2007ء گرفتار ہیں اور اے نبی ! اللہ کے اس حکم کی طرف بلانے پر تیری آواز پر کان نہیں دھرتے تو ایسے لوگ منافق ہیں۔اس بارے میں آنحضرت ﷺ نے بڑا انذار فرمایا ہوا ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی نے بلا وجہ جمعہ چھوڑ اوہ اعمال نامے میں منافق لکھا جائے گا جسے نہ تو مٹایا جا سکے گا اور نہ ہی تبدیل کیا جاسکے گا۔(مشكوة كتاب الصلواة۔باب وجوبها الفصل الثالث صفحه 121 ) پس اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ جب وہ کوئی تجارت دیکھتے ہیں ، دل بہلا وا د یکھتے ہیں اور اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے دوڑ پڑتے ہیں اور تَرَكُوكَ قَائِمًا تجھے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں یعنی تیری بات پر کان نہیں دھرتے یہ ان منافقین کے بارہ میں ہے۔ورنہ آنحضرت ﷺ کے تو ایسے جانثار صحابہ تھے جنہوں نے سخت سے سخت حالات اور جنگوں میں بھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑا۔دوسری اس بات کی اہمیت اس زمانے کے لئے ہے جب مسلمان دنیا داری میں ملوث ہیں۔یہ زمانہ جس میں لہو ولعب کے بھی قسم ہا قسم کے سامان میسر ہیں اور تجارتیں اور کاروبار بھی ایک خاص کشش لئے ہوئے ہیں اور عملاً مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد جمعہ کی نماز کی طرف کم توجہ دیتی ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں منافقین کے آپ کی آواز پر کان نہ دھرنے سے آپ اکیلے نہیں تھے ، گو منافقین یہی تصور کرتے تھے کہ ہم نے اکیلا چھوڑ دیا، اس وقت صحابہ کا ایک گروہ کثیر آپ کے ساتھ تھا۔لیکن اس زمانہ میں جب دنیا داری بہت زیادہ آچکی ہے اور مسلمانوں کی اکثریت صرف عید کی نمازیں پڑھتی ہے یا پھر جیسا کہ غلط تصور پیدا ہو چکا ہے جمعتہ الوداع کی نماز پڑھتے ہیں تو یہ اس زمانے کے مسلمانوں کے لئے خاص طور پر قابل توجہ ہے۔آنحضرت ﷺ اس بارہ میں انذار فرما چکے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہروہ شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعہ کے دن جمعہ پڑھنا فرض کیا گیا ہے۔سوائے مریض، مسافر عورت، بچے اور غلام کے۔جس شخص نے لہو ولعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لاپرواہی برتی ، اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہی کا سلوک کرے گا۔یقیناً اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد والا ہے۔(سنن دارقطني۔كتاب الجمعة۔باب من تجب عليه الجمعة حديث نمبر (1560) | پس اللہ تعالی کی لاپر واہی کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ہر ذی شعور جس میں اللہ کا خوف ہے، خوب سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لا پرواہی سے مراد تبا ہی اور بربادی ہے۔نہ دین ملتا ہے اور نہ دنیا ملتی ہے۔من حیث الجماعت اگر آج مسلمانوں کی حالت دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے احکامات کی بجا آوری نہ کر کے ، اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پس پشت ڈال کر یہ حالت ہے۔اور آخرت کا نقشہ کہ وہاں سلوک کیا ہوگا ؟ ایک روایت میں یوں کھینچا گیا ہے۔