خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 382

382 خطبہ جمعہ 21 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔لیکن جو طاقت رکھتے ہیں ان کے لئے اور اگر عارضی طور پر بعض مجبوریوں کی وجہ سے تم روزہ نہیں رکھ سکتے مثلاً کوئی ہنگامی سفر آ گیا ہے، کوئی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے روزے رکھنا مشکل ہے تو فرمایا فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ اُخَرَ۔پھر دوسرے دنوں میں یہ تعداد پوری کرو۔پس کسی کو یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ میں بیمار ہو گیا ہوں یا سفر آ گیا ہے تو اس رعایت کی وجہ سے کہ ان دنوں میں روزے نہ رکھو ایسی حالت میں روزے معاف ہو گئے ہیں۔نہیں، اگر ایمان میں ترقی چاہتے ہو، اگر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوتو جب صحت ہو جائے یا جو روزے ہنگامی سفر کی وجہ سے ضائع ہوئے ہیں، چھوڑے گئے ہیں، انہیں رمضان کے بعد پورا کرنا ضروری ہے اور یہی ایک متقی کی نشانی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو سہولت دی ہے اس سہولت سے فائدہ کا جواز اس وقت تک ہے جب تک وہ حالت قائم ہے جس کی وجہ سے سہولت ملی ہے۔لیکن یہاں یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ بیماری بھی ایسی ہو حقیقی تکلیف دہ بیماری ہو جس کی وجہ سے روزہ رکھنا مشکل ہو، بہانے نہ ہوں۔جس طرح جن لوگوں کا کام ہی سفر ہے مثلاً ڈرائیور ہے یا کاروبار کے لئے یا ملازمت کی وجہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے لمبا سفر کرنا پڑتا ہے، تو ان کے لئے سفر نہیں ہے۔یہ میں اس لئے کھول کر بتا رہا ہوں کہ ایک طبقے میں خاص طور پر جن ملکوں میں موسم کی شدت ہوتی ہے بلاوجہ روزے نہ رکھنے کا جواز تلاش کیا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچانے کا ان دنوں میں ہمیں موقع عطا فرمایا ہے اس لئے اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے حقیقی بندوں کا ، ان بندوں کا جو اس کی رضا کے راستے تلاش کرتے ہیں، خود ہی خیال رہتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی مریض اور مسافر کو سہولت دے دی ہے۔پھر فرماتا ہے کہ جو روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے فدیہ ہے، پھر وہ ایک مسکین کو روزہ رکھوائے۔لیکن جو بعد میں روزے پورے کر سکتے ہیں وہ بھی اگر فدیہ دیں تو ٹھیک ہے، ایک نفل ہے، تمہارے لئے بہتر ہے۔لیکن جب وہ حالت دوبارہ قائم ہو جائے ،صحت بحال ہو جائے یا جو وجہ تھی وہ دور ہو جائے تو پھر رمضان کے بعد روزے رکھنا ضروری ہے باوجود اس کے کہ تم نے فدیہ دیا ہے ، یہی چیز ثواب کا باعث بنے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو کبھی امید نہیں کہ پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے۔دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ بیمار جن کی عارضی بیماری ہے دور ہوگئی۔ایک وہ بیمار جن کی بیماری مستقل ہے اور بعد میں ان کو روزہ رکھنے کا موقع نہیں مل سکتا۔تو فرمایا کہ جن کو کبھی امید نہیں کہ روزہ رکھنے کا موقع مل سکے، مثلاً ایک نہایت بوڑھا، ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بسبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال بھر اسی طرح گزر جائے گا ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزہ کے رکھنے سے معذور سمجھا جاسکے۔بدر جلد6 نمبر 43 مورخه 24/اکتوبر (1907ء (صفحه 3