خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 370

خطبات مسرور جلد پنجم 370 خطبہ جمعہ 7 ستمبر 2007 ء ضرور میری باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گی لیکن میرے مارکی سے باہر نکلنے کے بعد ہی وہاں شور شروع ہو گیا۔وہی ہنگامہ، وہی باتیں اور سارے پروگراموں کے دوران اسی طرح ہوتارہا۔یا درکھیں اگر اسی طرح کی حرکتیں ہوتی رہیں تو یہ پرانے احمدیوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کیونکہ نئے آنے والے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں اور پُرانوں کو جلسے کا صرف ایک مقصد یاد رہ گیا ہے کہ آپس کے تعلقات بڑھاؤ۔یاد رکھیں کہ ہر عمل جو موقع محل کے لحاظ سے نہ کیا جائے ، بے شک صحیح اور اچھا ہو، وہ عمل صالح نہیں کہلا تا۔میں سمجھتا ہوں ک لجنہ کی تنظیم بھی نچلی سطح سے لے کر ، اپنے شہر کی تنظیم سے لے کر مرکزی سطح تک تربیت میں اس کمی کی ذمہ دار ہے۔بڑے بڑے مسائل یاد کرنے سے بہتر ہے پہلے اپنی تربیت کریں۔جیسا کہ میں نے کہا جماعت میں نئے شامل ہونے والے اپنے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں اور دنیا کے ہر ملک میں بڑھ رہے ہیں اُن کو دیکھ کر جہاں خوشی ہوتی ہے کہ نئے آنے والے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نیکی اور اخلاص میں بڑھنے والے ملک ملک میں عطا کئے ہیں اور عطا فرما رہا ہے اور دل سے بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے جذبات نکلتے ہیں ، وہاں یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ پرانے احمدیوں کی قربانیوں کو کہیں ان کی اولادیں ضائع نہ کر دیں۔جرمنوں میں میں نے دیکھا ہے خاص طور پر نو جوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جو احمدی ہو رہے ہیں اسلام کی پیاری تعلیم کا بہت اثر ہے۔کوشش کرتے ہیں کہ حتی الوسع ہر حکم کو مانیں اور ہر حکم کی پابندی کریں۔وقتی اطاعت نہیں بلکہ مستقل اطاعت کا جو اپنی گردن پر ڈالیں۔اس وقت یہاں نو مبائعین کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور اس تھوڑی سی تعداد میں بھی اطاعت اور خدمت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔یہ لوگ نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔لیکن انشاء اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی دور نہیں ہے جب یہ تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہونے والی ہے۔اس لئے میں جرمن احمد یوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اسلام کی تعلیم جہاں اپنی زندگیوں پر لاگو کریں وہاں شمع ہدایت بنتے ہوئے اپنے ہم وطنوں میں بھی یہ تعلیم پھیلائیں۔اسلام کی جو روشنی آپ کو ملی ہے اس شمع سے دوسروں کے دل بھی روشن کریں۔اسلام کے خوبصورت پیغام سے دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔اس تاثر کو دھوئیں کہ اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے۔گزشتہ دنوں یہاں جرمنی میں کچھ لڑ کے گرفتار ہوئے ، کچھ جرمن اور کچھ ترک لڑکے تھے جو دہشت گردی کرنے والے تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان سے ٹرینینگ لے کر آئے تھے۔ایک بڑے نقصان سے اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو بیچا