خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 369
خطبات مسرور جلد پنجم 369 خطبہ جمعہ 17 ستمبر 2007 ء غیر معمولی طور پر عورتوں نے میری تقریر کے دوران خاموشی کا مظاہرہ کیا اور اس خاموشی کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔میں اس بات پر خوش بھی تھا اور اس بات کا افسوس بھی کر رہا تھا کہ یہ میری بدظنی تھی کہ عورتیں بچوں کی آڑ میں خود باتیں کرتی رہتی ہیں۔لیکن میری یہ خوش نہیں تھوڑی دیر کے بعد ہی دور ہو گئی اور پتہ لگ گیا کہ یہ میری بدظنی نہیں تھی کیونکہ میری تقریر کے علاوہ عورتوں نے خاموشی اختیار نہیں کی اور ایک بڑا طبقہ مسلسل باتیں کرتارہا اور ڈیوٹی والیوں کے کہنے پر بھی خاموش نہیں ہوتی تھیں۔کسی کا جواب تھا کہ پہلے فلاں کو چپ کر اؤ پھر میں چپ کروں گی۔کسی نے یہ جواب دیا کہ اتنے لمبے عرصے کے بعد تو ہم ملے ہیں۔ہمارے خاوند تو ملنے بھی نہیں دیتے تو ہم اب بیٹھ کر باتیں بھی نہ کریں۔اور جو بیچاری نیک نیتی سے جلسہ سننے کے لئے آئی تھیں ، وہ جو بیچاری اس نیت سے آئی تھیں اور اس شور کی وجہ سے ان پروگراموں سے استفادہ نہیں کر سکیں ان میں سے بہت ساری ایسی تھیں جنہوں نے رونا شروع کر دیا کہ ہمیں پروگرام بھی سنے نہیں دے رہیں۔سنا ہے ایک دفعہ تو اتنا شور تھا کہ مائیکر وفون سے بھی آواز نہیں آ رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک سال جلسہ ہی اس لئے منعقد نہیں کیا تھا کہ جو جلسے کا مقصد ہے اسے پورا نہیں کیا جاتا۔میں بھی یہ سوچ رہا ہوں کہ لجنہ کا وسیع پیمانے پر جلسہ ہی بند کر دیا جائے اور چھوٹے چھوٹے ریجنل جلسے کئے جائیں اور پھر اگر تربیت ہو جائے، تسلی ہو جائے تو پھر مرکزی جلسہ کریں۔یا پھر دوسری صورت یہی ہے کہ تھوڑا سا ان کو توجہ دلانے کے لئے میں لجنہ میں براہ راست خطاب بند کر دوں اور جب تک یہ اطلاع نہیں مل جاتی کہ اس سال تمام پروگرام لجنہ نے خاموشی سے سنے ہیں اس وقت تک وہاں خطاب نہ کیا جائے۔مجھے پتہ ہے ، احساس ہے کہ عورتوں کی کافی تعداد جو خالصتاً جلسہ کی نیت سے آتی ہیں ان کے لئے بہت تکلیف دہ ہو گا۔لیکن علاج کے لئے بعض دفعہ کڑوی گولیاں دینی پڑتی ہیں۔تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک سال جلسہ نہیں کیا تھا، حالانکہ بڑے اخلاص سے بڑی تعداد جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آئی تھی تو یہاں بھی ایک صورت کی جائے تا کہ شاید اصلاح ہو جائے۔یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف ٹو مبائعات جو بڑے آرام سے اور شوق سے جلسہ سنتی ہیں اور میں پچیس سال تک کی لڑکیاں ، عورتیں جن میں فی الحال کم باتیں کرنے کا شوق ہے، ان کو جلسہ پر یا مرکزی اجتماع پر آنے کی اجازت ہو اور باقیوں پر پابندی لگادی جائے اور صرف یہاں نہیں بلکہ میں اب سوچ رہا ہوں کہ اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے مختلف ملکوں میں اس طرح کے جائزے لوں جہاں بڑی جماعتیں ہیں۔عورتوں کو اتنی مرتبہ توجہ دلائی گئی ہے کہ اپنے مقام کو سمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا کریں لیکن بہت کم اثر ہوتا ہے۔میری تقریر کے دوران لجنہ کی مارکی میں اس قدر خاموشی تھی کہ میں سمجھا تھا کہ