خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 345
خطبات مسرور جلد پنجم 345 خطبہ جمعہ 24 /اگست 2007 ء پھر لکھتے ہیں قرآن میں حکومت اور مذہب کی علیحدگی کا کوئی تصور نہیں ہے، اس سے آپ انکار نہیں کر سکتے کہ نہ صرف محمد (نعوذ باللہ ) ایک تشدد پسند شخصیت تھے بلکہ قرآن خود بھی متشددانہ خیالات پر مبنی کتاب ہے۔پھر ایک اور اخبار میں لکھتا ہے کہ میں خدا کی عبادت کا سن سن کر تنگ آ گیا ہوں ، اخبار میں بیان دیتے ہوئے خیرت ولڈ رز (Geert Wilders) نے صرف قرآن پر پابندی لگانے کا ہی مطالبہ نہیں کیا بلکہ سیاسی رہنماؤں پر بھی تنقید کی کہ دہشت گرد مسلمانوں کو ملک میں جگہ دے رہے ہیں یعنی یہ بے چارے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ میں اسلام سے تنگ آ گیا ہوں اب کوئی مسلمان یہاں ہجرت کر کے نہیں آنا چاہئے ہمیں ہالینڈ میں اللہ کی عبادت کا سن سن کر بھر چکا ہوں، ہمیں ہالینڈ میں قرآن کے تذکرے سے تنگ آ گیا ہوں، نعوذ باللہ اس فاشسٹ (Fascist) کتاب پر پابندی لگائی جائے۔فاشزم کا اظہار تو یہ خود کر رہے ہیں۔اب آنحضرت ﷺ پر انہوں نے پہلا اعتراض کیا ہے کہ جس طرح عمر بڑھتی گئی نعوذ باللہ تنشد و آمیز طبیعت کی طرف مائل ہوتے گئے ، صاف ظاہر ہے کہ بغض اور کینے نے انہیں اتنا اندھا کر دیا ہے کہ قرآن پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور قرآن کو یہ لوگ ویسے بھی پڑھتے ہی نہیں، ادھر اُدھر سے سنی سنائی باتیں کرتے ہیں اور قرآن تو خیر کیا پڑھنا تھا، یہ تاریخ کو بھی مسخ کر رہے ہیں۔جو ان سے بہت زیادہ علم رکھنے والے عیسائی تھے وہ بھی جو اعتراض نہیں کر سکے انہوں نے وہ اعتراض بھی کر دیا۔پتہ نہیں کہاں کہاں سے یہ اعتراض ڈھونڈ نکالے ہیں۔سورۃ مائدہ نہ صرف مدنی سورۃ ہے بلکہ اس بارے میں ساری روایتیں یہی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے آخری سال میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس میں دشمنی اور تشد دکو ختم کرنے کی اور انصاف قائم کرنے کی کیا ہی خوبصورت تعلیم ہے۔یہ کہتے ہیں کہ مدینے میں آکر تشد د کی تعلیم بڑھ گئی۔یہ آخری سورۃ جو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں نازل ہوئی اس کی تعلیم کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (سورة المائدة آيت (9) که کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو تم انصاف کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔اب یہ دکھائیں، یہ خوبصورت تعلیم ان کے یا کسی اور مذہب میں کہاں ہے۔لیکن جن کو بغض اور کینے نے اندھا کر دیا ہو، ان کو سامنے کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ نے تو پہلے ہی فرما دیا ہے کہ جو اندھے ہیں ان کو تم نے راستہ کیا دکھانا ہے، ان کو تم نے روشنی کیا دکھانی ہے، کوشش کر لو نہیں دکھا سکتے۔پھر یہ صاحب کہتے ہیں کہ سورۃ توبہ کی آیت 5 میں عیسائیوں ، یہودیوں اور مرتدوں کے خلاف تشدد پر اکسایا ہے۔اگر آنکھوں کے پردے اتار کر دیکھیں، قرآن کریم کو صاف دل ہو کر پڑھیں تو خود ان کو نظر آئے گا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین سے جنگ کی اجازت دی ہے جو باز نہیں آتے کسی قسم کا معاہدہ نہیں کر رہے ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔اور اب جبکہ اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو حکم ہے کہ ایسے مشرکین سے جو تم سے جنگ کر