خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 344
344 خطبہ جمعہ 24 اگست 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم نا آشنا ہیں۔تو پھر ظاہر ہے کہ یہ جو ایسے لوگ سوچتے ہیں ان سوچنے والے ذہنوں کو خدا اور مذہب کے بارے میں یہ بات بے چینی میں بڑھاتی ہے کہ تصور تو مذہب کا ہے لیکن ہمیں کچھ حاصل نہیں ہورہا۔یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ایک خدا کو بھول گئے ہیں اور یہی چیز ان کو مذہب سے دور لے جارہی ہے، جیسا کہ میں نے کہا، بعض اس میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ خدا کے تصور سے ہی انکاری ہیں اور صرف انکاری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر استہزاء آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں۔پھر ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کے بغض اور کینے میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہر روز اسلام، بانی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ اور قرآن کریم پر نئے سے نئے انداز میں حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن اور آنحضرت ﷺ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا قرآن کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے عمل سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔تو بہر حال یہ لوگ اور پہلی قسم کے لوگ جو میں نے بتائے جو مذہب سے دور ہٹے ہوئے ہیں اور خدا کے تصور کو نہ ماننے والے ہیں یہ بھی تنقید کا نشانہ بنانے کے لئے زیادہ تر اسلام اور مسلمانوں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ان سب کو نظر آ رہا ہے کہ مذہب کا اور خدا کی ذات کا صحیح تصور پیش کرنے والی اگر کوئی تعلیم ہے تو اب صرف اور صرف اسلام کی تعلیم ہے ، قرآن کریم کی تعلیم ہے۔بعض سے تو اسلام اور آنحضرت ﷺ سے بغض اور کینے کا اظہار اس قدر ہوتا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں ، ان پڑھی لکھی قوموں میں ، مغرب میں، جو اپنے آپ کو بڑا ترقی یافتہ اور آزادی کا علمبر دار اور دوسروں کے معاملے میں دخل نہ دینے کا دعوی کرنے والے ہیں یہاں ایسے لوگ ہیں جو تمام حدیں پھلانگ گئے ہیں اور اسلام دشمنی نے ان کو بالکل اندھا کر دیا ہے۔گزشتہ دنوں یہاں ایک سیاسی لیڈر جن کا نام خیرت ولڈ رز (Geert Wilders) تھا انہوں نے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے اپنے دل کے بغض اور کینے کا اظہار کیا ہے۔ان کی ہرزہ سرائی آپ میں سے بہت سوں نے سنی ہوگی۔دنیا کو بھی پتہ لگے، لکھتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ سچائی کو خود دیکھیں۔ان لوگوں کی یہ بڑی دجالی چالیس ہوتی ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ اس بات کا آغاز محمد ﷺ سے شروع ہوتا ہے جس طرح اکثر مسلمان ان کی محبت بھری شخصیت کی خاکہ کشی کرتے ہیں حقیقت میں وہ ویسے نہیں تھے۔جب تک وہ مکہ میں رہے اور یہاں پر بھی صرف قرآن کے کچھ حصے وجود میں آئے اس وقت تک تو ان کی شخصیت میں محبت تھی لیکن جیسے جیسے ان کی عمر بڑھتی گئی اور خاص طور پر مدینے میں رہائش کے زمانے میں وہ بتدریج تشدد آمیز طبیعت کی طرف مائل ہوتے گئے (نعوذ باللہ )۔پھر لکھتے ہیں کہ سورۃ 9 آیت 5 میں آپ دیکھتے ہیں کہ کس طرح عیسائیوں، یہودیوں اور مرتدوں کے خلاف تشدد پر اکسایا گیا ہے۔اکثر آیات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔پھر بائبل کی تعریف کی ہے۔خیر اس کا ایک علیحدہ موضوع ہے، میں نہیں چھیڑتا۔