خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 330
خطبات مسرور جلد پنجم 330 خطبه جمعه 10 اگست 2007 ء اختیارات وسیع ہوں اتنی زیادہ عاجزی ہونی چاہئے ، اتنی زیادہ شکر گزاری ہونی چاہئے ، ہمیشہ یہ یاد رکھو کہ ہمارا ہر عمل وہ رہنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے بچنے کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے وَلَا تُصَعِرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلِّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (لقمان: 19) اور نخوت سے اپنے گال لوگوں کے سامنے نہ پھلا اور زمین میں تکبر سے مت چل۔اللہ یقینا ہر شیخنی کرنے والے اور فخر کرنے والے سے پیار نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ نا پسند ہیں جو فخر کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے، اگر یہ دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے میرا دل ڈر جاتا ہے تو پھر ہر قسم کے تکبر سے اپنے آپ کو پاک کرنا ہوگا۔با اختیار اور صاحب عزت ہونا ایک مومن کو ، اگر اس کے دل میں حقیقی ایمان ہے، عاجزی اور شکرگزاری میں بڑھاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے تو غلاموں کی بھی عزت نفس کا اس قدر خیال رکھا ہے کہ فرمایا کہ اپنے غلاموں کو میر اغلام یا میری لونڈی کہہ کے نہ پکارو بلکہ میرالڑکا یا لڑ کی کہہ کر پکارا کرو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی فرمایا کہ گالی مت دو خواہ دوسرا شخص گالی دیتا ہو۔اور یہی گر ہے جس سے مومن کی زبان ہمیشہ صاف رہتی ہے۔ایک مومن کو تو ہمیشہ پاک زبان کا استعمال کرنا چاہئے۔گالی کی تو اس سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔اپنے آپ کو کسی کی گالی سن کر پھر اس سے روکنا نہ صرف زبان کو پاک رکھتا ہے بلکہ ذہن کو بھی بہت سے غلط کاموں کے کرنے سے بچاتا ہے۔گالی سن کر انسان کا فطری رد عمل یہی ہوتا ہے کہ انسان غصے میں آجاتا ہے اور اس کے رد عمل کے طور پر بھی جس کو گالی دی جاتی ہے یا بُرا بھلا کہا جاتا ہے، وہ بھی اسی طرح الفاظ دوسرے پر الٹاتا ہے۔پس جب یہ ارادہ ہو کہ انہی الفاظ میں جواب نہیں دینا جو غلط الفاظ دوسرے نے استعمال کئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے، تو یہ بہت بڑی نیکی ہے اور یہ نیکی ایک بہت بڑے مجاہدے سے حاصل ہوگی۔یہ آسان کام نہیں ہے۔اور یہ مجاہدہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا، جب تک خدا تعالیٰ پر کامل ایمان نہ ہو اور ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب نہ ہو اور پھر یہی چیز ہے جس سے صبر کے معیار بڑھیں گے۔ایک مومن کو تو یہ ضمانت میسر ہے کہ اگر کسی کی غلط زبان پر یا غلط بات پر یا غلط حملوں پر تم صبر کرتے ہو تو فرشتے جواب دیتے ہیں۔جب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ڈھال بھی بنا دیا ہے اور ہماری طرف سے جواب دینے کے لئے بھی مقرر کر دیا ہے تو پھر اس سے بہتر اور کیا سودا ہو گا۔پھر اس سے بڑھ کر صبر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں خوشخبری دی ہے کہ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ یہ نوید اللہ تعالیٰ ہمیں سناتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ ان مومنوں کے رب کی طرف سے جو صبر کرتے ہیں ان پر اس صبر کی وجہ سے برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں گی۔اور الٹا کر جواب نہ دینا صرف ایک مومن نہ صرف اس سے اپنے دل و دماغ کو غلاظت سے بچاتا ہے بلکہ فرشتوں کی دعاؤں سے بھی حصہ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں بھی حاصل کرتا ہے اور پھر معاشرے میں امن قائم کرنے والا بھی بنتا ہے، مزید جھگڑوں اور فسادوں سے معاشرے کو محفوظ رکھتا ہے۔گالی کا جواب گالی سے دینے سے بعض دفعہ