خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 331

331 خطبات مسرور جلد پنجم خطبہ جمعہ 10 راگست 2007 ء دوسرا فریق مزید طیش میں آجاتا ہے۔اس کے حمایتی جمع ہو جاتے ہیں، دوسرے فریق کے حمایتی جمع ہو جاتے ہیں، اس گالی پر بعض دفعہ ایسی خطرناک لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ قتل تک ہو جاتے ہیں۔پس جب مومن کا مطلب ہی امن سے رہنے والا اور امن پھیلانے والا ہے تو اس سے ایسے امن کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی جس کے نتائج فتنہ وفساد پر منتج ہوں۔پس اگر ان بھیانک نتائج سے بچنا ہے تو پھر اس کا علاج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ گالی کا جواب گالی سے نہ دو، غریب اور حلیم اور نیک نیت ہو جاؤ۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے اور یہ سب کچھ عاجزی اور عقل سے چلتے ہوئے برداشت کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے حقیقی مومن کہلاؤ گے۔پس یہ اور اسی طرح دوسرے اخلاق اپنانے والی اور بُرائیوں سے روکنے والی جو باتیں ہیں ، یہی ہیں جو انسان کو ایک مسلمان کو ایک حقیقی مومن بناتی ہیں اور جب تک ایک مسلمان نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرتارہے گا اور اپنی عبادتوں کے ساتھ اعمال صالحہ بجالا تارہے گا جن میں سے ابھی کچھ کا بیان ہوا ہے تو وہ حقیقی مومن کہلانے والا رہے گا۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایک مسلمان توجہ کے ساتھ ان باتوں پر عمل نہیں کرتا جو خدا تعالیٰ نے بتائی ہیں تو پھر اس کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ امَنَّا کہ ہم ایمان لے آئے بلکہ ہماری ابھی یہ حالت ہے جو اسلمنا والی ہے کہ ہم نے بیعت تو کر لی، فرمانبرداری تو کچھ حد تک قبول کر لی لیکن ایمان کامل نہیں ہوا۔کیونکہ اگر حقیقتا ایمان دل میں پیدا ہو گیا ہے تو پھر تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی کوشش ہر ایک میں نظر آنی چاہئے۔اور ہم دنیا میں حقیقی انقلاب اسی وقت لاسکیں گے جب ہمارا ایمان اس معیار کی طرف جا رہا ہوگا جس میں عبادتوں کے معیار بھی بلند کرنے کی کوشش ہو رہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دلوں میں پیدا ہوگا اور اس کے لئے کوشش ہو رہی ہوگی۔اعمالِ صالحہ بجالانے کے لئے بھی ایک تڑپ ہوگی جو ایک مومن میں بڑھتی چلی جاتی ہے اور ان باتوں کے ساتھ ہم پھر اللہ تعالیٰ کے اس پیارے رسول ﷺ کے حقیقی ماننے والے بھی ہوں گے جو حظ عظیم پر پہنچا ہوا تھا، بڑے بلند مقام پر پہنچا ہوا تھا اور جس کی نمازیں بھی اور تمام اعمال بھی جس کی قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر تھیں۔جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر چلنے کا حکم دیا ہے تو آپ نے جو نمونے قائم کئے ان کی طرف چلنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔پس جب یہ معیار حاصل کرنے کی طرف آگے بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے ایمان لانے والوں کو خوشخبری دیتا ہے اور وہ فرماتا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے کہ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ امَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْانْهرُ خوشخبری دے دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رَزْقًا قَالُوْا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِها جب ان باغات میں سے، ان جنتوں میں سے جو اُخروی جنتیں ہیں ان کو بطور رزق پھل دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا جا چکا ہے۔وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس ملتا جلتا رزق لا یا گیا تھا اور ان کے لئے ان باغات میں پاک بنائے ہوئے جوڑے ہوں گے وَهُمْ فِيهَا خَلِدُوْنَ۔(البقرة : 26) اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے