خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 329
خطبات مسرور جلد پنجم 329 خطبہ جمعہ 10 راگست 2007 ء پس جب تعلق کا یہ تصور ہر احمدی میں پیدا ہوگا تو بے رحمی اور ظلم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ دوسروں کو پہنچی ہوئی تکلیف، بلکہ ہلکی سی تکلیف بھی اپنی تکلیف لگے گی اور یہ ایک احمدی کی سوچ ہونی چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ مومن دوسرے مومن کی تکلیف کو بھی اپنی تکلیف سمجھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے معیار بہت اونچے دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ صرف مومن کی تکلیف کو محسوس ہی نہیں کرنا بلکہ جب تمہارے دل میں رحم کا جذبہ دوسرے کے لئے پیدا ہو جائے تو مزید ترقی کرو۔اس رحم کے جذبے کو صرف اپنے دل تک ہی نہ رکھو، وہیں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا اظہار بھی ہو۔اور اظہار کس طرح ہو؟ فرمایا اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بھلائی کی کوشش کرتے رہو۔لوگوں کو فیض پہنچانے کے لئے اگر قربانی بھی کرنی پڑے تو کرو۔اپنے ایمان کے اعلیٰ معیار کے وہ نمونے دکھاؤ جو پہلوں نے دکھائے تھے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ (الحشر: 10) اور وہ خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے دعویٰ نبوت سے پہلے بھی اپنی پاک فطرت کے نمونے دکھائے اور یہ نمونے دکھاتے ہوئے دوسروں کی بھلائی کی خاطر، دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کوششیں کیں اور حلف الفضول جو ایک معاہدہ ہے جو تاریخ میں آتا ہے وہ اُسی کی ایک کڑی ہے۔اور نبوت کے بعد تو دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ان کی بھلائی اور خیر چاہنے کے لئے آپ کے جو عمل تھے اس کے نظارے ہمیں آپ کی زندگی میں تیز بارش کی طرح نظر آتے ہیں اور یہی آپ کے نمونے اور قوت قدی تھی جس نے یہ روح صحابہ میں پھونک دی جس کی وجہ سے وہ دوسروں کی بھلائی چاہنے میں بڑھتے چلے گئے۔اور اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مخلوق کی بھلائی کے لئے بھی بلا تفریق مذہب وملت وہ نظارے دکھائے جو ہمارے لئے قابل تقلید ہیں اور مشعل راہ ہیں۔عورتیں، بچے دیہاتوں سے آتے ہیں کہ آپ سے اپنی بیماری کے لئے دوائیاں لیں اور آپ بغیر کسی اعتراض کے اس فیض سے کئی گھنٹے تک لوگوں کو فیضیاب کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ غریب لوگ ہیں اس علاقے میں ڈاکٹر نہیں ہے ، ان کے پاس پیسے نہیں، خرچ نہیں کر سکتے تو ان سے ہمدردی کا یہ تقاضا ہے کہ ان کی ضرورت پوری کی جائے۔باوجود اس کے کہ آپ کے بے انتہا کام تھے اور اس زمانے میں ایک چو کبھی لڑائی تھی جو تمام ادیان باطلہ سے آپ لڑ رہے تھے لیکن مخلوق کی بھلائی کا اس قدر جذبہ تھا کہ اس کے لئے وقت نکال رہے ہیں اور گھنٹوں اس کام کے لئے مصروف ہیں۔پھر اس اقتباس میں جو میں نے پڑھا آپ ہمیں توجہ دلاتے ہیں کہ کسی پر تکبر نہ کرو، گوتمہارا ما تحت ہی ہو۔اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ما تحت بنایا ہے، تمہارے زیرنگین کیا ہے تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ تمہاری مدد کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان بہم پہنچایا، بعض لوگوں کو تمہاری خدمت پر مامور کیا۔ایک مومن کی یہ شان ہے کہ جتنے