خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 321

خطبات مسرور جلد پنجم 321 خطبه جمعه 03 / اگست 2007 ء کھڑے رہے بعض چار پانچ گھنٹے تک کھڑے رہے بلکہ اکثر نے شاید رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔تو اُن کو یوں کھڑا دیکھ کر کچھ دیر کے لئے میں بھی ان کے پاس گیا تو یوں کھڑے ہنس رہے تھے اور خوش تھے جیسے انتہائی آرام دہ موسم میں کھڑے ہوں، حالانکہ اس وقت بارش ہو رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ جماعت بھی عجیب جماعت ہے۔پیار آتا ہے اس جماعت پر۔بچوں کو، بوڑھوں کو عورتوں کو بھیگتے دیکھ کر مجھے بے چینی شروع ہوگئی تھی بلکہ پوری رات ہی بے چینی رہی۔میں استغفار بھی کرتا رہا، اللہ تعالیٰ سے ان کی صحت و سلامتی کی بھیک بھی مانگتا رہا کہ اس موسم کی وجہ سے ان کو تکلیف نہ ہو۔اگلے دن کی حاضری دیکھ کر تسلی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے اور عمومی طور پر لوگ کل کے موسم کی شدت سے محفوظ رہے، وہی چہرے اکثر نظر آ رہے تھے۔تو اس بات پر بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے موسم کے بداثرات سے عمومی طور پر ہمیں محفوظ رکھا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اکا دُکا کے علاوہ عموما مہمانوں اور شامل ہونے والوں نے انتظامات میں کسی قسم کا کوئی شکوہ نہیں کیا۔مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض جگہ مہمانوں کو کھانا بھی فوری طور پر متبادل انتظام کرنے کی وجہ سے نہیں مل سکا یا صحیح طور پر نہیں مل سکا۔موسم کی وجہ سے کچھ تعداد کو اسلام آباد میں مار کی لگا کر جلسہ سنوایا گیا، کچھ کو بیت الفتوح میں جلسہ سنوایا گیا۔کچھ غلطی سے مسجد فضل آگئے تھے کہ یہاں سے بسیں لے جائیں گی لیکن وہاں سے انتظام نہیں تھا جس کی وجہ سے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔بہر حال مختلف جگہ جو بھی صورتحال ہوئی انتظامیہ اور امیر صاحب نے اس پر معذرت کی ہے اور سب مہمانوں تک بھی معذرت پہنچانے کا کہا ہے اور ان سے بعض جگہ پر معمولی کو تا ہیاں بھی ہوئی ہیں اس پر بھی ان کو شرمندگی ہے۔تو مجھے امید ہے تمام مہمان جن کو کسی بھی قسم کی تکلیف سے گزرنا پڑا اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے انتظامیہ سے درگذرکریں گے اور معاف فرمائیں گے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ کچھ پولیس کی وجہ سے معاملہ بگڑا، انہوں نے کچھ جلد بازی دکھائی ،گزشتہ سال بھی بعض دفعہ لمبی لائینیں لگی تھیں لیکن گزشتہ سال جو افسر تھا وہ ذرا ٹھنڈے مزاج کا تھا اگر اس سال بھی وہی مزاج رکھنے والا افسر ہوتا تو شاید پچہتر فیصد ٹریفک کے معاملات آرام سے حل ہو جاتے۔بہر حال یہ بھی ایک تجربہ ہے۔یہ پتہ چل گیا کہ ہر قسم کے انتظامات میں مزید گہرائی تک جانے کی ضرورت ہے۔سرکاری افسران سے واسطہ اور رابطہ میں بھی صرف خوش منہی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ہر انسان کا مزاج مختلف ہوتا ہے۔اس لئے پلاننگ ہمیشہ بدترین حالات کو سامنے رکھ کر ہونی چاہئے اور اس طرح کی پلاننگ سے پھر کم سے کم پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔یہ جو کمزوریاں میں دکھا رہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بہت اجاگر ہوئی تھیں، معمولی باتیں بھی ہمیں ذہن میں رکھنی