خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 320
خطبات مسرور جلد پنجم 320 خطبه جمعه 03 / اگست 2007 ء جاتے وقت تھوڑی سی بدمزگی بھی ہوئی جو جلد بازوں کی وجہ سے ہوئی اس لئے ڈسپلن بھی خراب ہوا ر استے بھی رُکے۔ہمیشہ ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ ایک احمدی کے ساتھ احمدیت کے نام کا جو اعزاز لگا ہوا ہے اس کے بعد فرد جماعت کی حیثیت کوئی ذاتی نہیں ہے اور خاص طور پر جماعتی فنکشنز میں۔بلکہ کسی بھی احمدی کی کسی بھی حرکت کا اثر جماعت پر ہوتا ہے، کوئی بھی حرکت اگر ہو تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ فلاں شخص نے یہ حرکت کی بلکہ غیروں کی اگر نظر ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ احمدی نے یوں کیا ، یا جماعت کے افراد نے یوں کیا۔اس لئے اس بات کا ہر احمدی کو ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے اور جیسا کہ دوسرے دن کے تجربہ سے پتہ چلا کہ شروع میں ہی پارکنگ کا انتظام اسلام آباد میں اور لندن والوں کے لئے بیت الفتوح اور مسجد فضل کے قریب جو لوگ رہتے ہیں ، بیت الفتوح میں ہونا چاہئے تھا۔اسی طرح بعض اور جگہیں بھی مقرر کی جاسکتی تھیں جہاں سے زیادہ تعداد میں بسیں چلائی جا سکیں۔اسی طرح حدیقہ المہدی میں ابھی سے اگلے سال کی پلاننگ ہونی چاہئے۔اس سال بھی کچھ کاروں کی پارکنگ حدیقہ المہدی میں کی گئی لیکن کیچڑ کی وجہ سے بہت سی کاروں کو بہت مشکل سے نکالا گیا۔اگر پلاننگ ہو تو اسلام آباد اور لندن سے بسوں کے ذریعہ سے لانے سے پھر چند ہزار، دو تین ہزار کاروں کا حدیقہ المہدی میں بھی انتظام ہو سکتا ہے۔ایسے لوگ جو روزانہ واپس آنے والے نہ ہوں ان کی کاریں وہیں کھڑی رہ سکتی ہیں، کیونکہ بعض وہاں رہائش رکھتے ہیں۔اسلام آباد میں جو رہائش رکھتے ہیں ان کی کاریں اسلام آباد میں کھڑی رہیں تو بسوں میں آنے سے ایک تو علاقے کے لوگ پریشان نہیں ہوں گے ، چھوٹی سڑکیں ہیں وہ بھی بلاک نہیں ہوں گی ، پولیس لوگوں کو پریشان نہیں کرے گی ، جو کھانا اور دوسرا سامان لانے والی گاڑیاں ہیں ان کا راستہ بھی نہیں رکے گا۔جو بسیں اسلام آباد سے چلیں گی وہ بھی آسانی سے اور تیزی سے حدیقہ المہدی پہنچ سکتی ہیں تو ہر لحاظ سے لوگ پریشانی سے بچیں گے۔ابھی تک حدیقہ المہدی کی جگہ پر ہم بعض کام نہیں کر سکتے۔کھانے اور پکانے کا انتظام وہ اسلام آباد میں ہے اور کھانا پک کر اسلام آباد سے آتا ہے۔وہاں ٹھہرے ہوئے مہمانوں کے لئے بھی۔اگلے سال انشاء اللہ خلافت جوبلی کا جلسہ ہے جیسا کہ میں نے کہا اس لئے انتظامیہ کو بھی اور افراد جماعت کو بھی اس لحاظ سے اپنے آپ کو تیار کر لینا چاہئے تا کہ حتی الوسع بہترین انتظام کے تحت جلسے کی تمام کارروائی ہو سکے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں افریقہ کے جلسوں اور پاکستان کے جلسوں اور قادیان کے جلسوں کی مثال دی تھی کہ کس طرح لوگوں نے صبر کا مظاہرہ کیا اور کرتے ہیں۔تو اس جلسے میں یہ نظارہ یہاں کے ممبران جماعت اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے افراد نے بھی دیکھا دیا۔عورتیں بچے بسوں کے انتظار میں کئی کئی گھنٹے بارش میں بھیگتے رہے اور بڑے آرام سے کھڑے رہے۔معمولی سا کہیں واقعہ پیش آیا ہو گا لیکن عمومی طور پر بڑے آرام سے انتظار میں