خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 319
خطبات مسرور جلد پنجم 319 خطبه جمعه 03 / اگست 2007 ء لیکن بعض کمزوریوں کے ظاہر ہونے سے مجھے امید ہے کہ اب سب کام کرنے والوں پر اتنا اثر ہوگا کہ زیادہ بہتر طور پر سنبھال سکیں گے اور انتظامات کا معیار بھی پہلے سے اچھا ہو گا۔اس سال موسم کی حالت کو دیکھتے ہوئے اور حدیقہ المہدی میں بارشوں کی وجہ سے زمین کی حالت کے مدنظر کاروں اور ویگنوں کی پارکنگ کے لئے متبادل انتظام کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ایک ادارے کی پارکنگ بھی حاصل کی گئی تھی جو حدیقہ المہدی سے دو تین میل کے فاصلے پر ہے۔لیکن ایک غلطی ہوئی کہ یہ فیصلہ ہوا کہ کاروں میں آنے والے اپنی سواریاں حدیقۃ المہدی میں اتارتے جائیں اور پھر پارکنگ کی جگہ ڈرائیورز کاریں لے جائیں اور ڈرائیورز کو پھر وہاں سے بسوں کے ذریعہ لایا جائے۔تو اس وجہ سے سواریاں اتارتے ہوئے اتنا وقت لگ جاتا تھا۔کہ لمبی قطار اس علاقے کی سرکاری سڑک پر بھی لگنی شروع ہوگئی اور اس سے پولیس والے گھبرا گئے کہ علاقے کی سڑکیں بلاک ہونی شروع ہو گئی ہیں ، حالانکہ یہاں فٹ بال کے میچ ہوتے ہیں اور دوسرے فنکشنز ہوتے ہیں تو سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں لیکن یہاں چونکہ مسلمانوں کا سوال تھا اس لئے انہوں نے کچھ زیادہ ہی گھبراہٹ دکھائی۔قریب کے جو چھوٹے دو قصبے تھے ان کے گھروں کے سامنے بھی کاروں کی لائنیں لگنی شروع ہوگئیں اور عارضی طور پر ذرا زیادہ کاریں کھڑی ہوئیں تو گھر والوں میں بھی بے چینی پیدا ہوئی۔بہر حال یہ طریق اتنا کامیاب نہ ہوا اور پھر رات کو واپسی کے وقت بھی کاروں کی سواریوں کو واپس پارکنگ تک بسوں کے ذریعہ سے لے جایا گیا تو پھر کچھ تھوڑی دیر کے لئے بدمزگی ہوئی۔بہر حال عمومی طور پر لوگ آرام سے سوار ہوئے۔چند ایک ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مسائل کھڑے کرنے والے ہوتے ہیں، چاہے تھوڑی دیر کے لئے ہو کچھ بدمزگی ہو جاتی ہے اور اس بدمزگی کی وجہ سے جانے والے مسافر عورتیں، بچے مرد بھی کچھ گھبرا گئے اور انتظامیہ بھی تھوڑی سی گھبرا گئی۔اس لئے وہ وقتی معمولی پریشانی بہت زیادہ نظر آنے لگی اور ہر ایک نے اپنی اپنی ایک کہانی بنالی۔دن کے وقت پولیس کے رویہ سے بھی کچھ پریشانی تھی۔تو بہر حال انتظامیہ کو میرے خیال میں اب پتہ لگ گیا ہے کہ اتنی قریب پارکنگ شاید مناسب نہیں یا پھر گاڑیاں سیدھی پارکنگ میں جائیں۔جہاں انتظار گاہ ہوتی ، کوئی شیڈ ہوتا، چائے وغیرہ کا انتظام ہوتا، غسل خانے کا انتظام ہوتا ،عورتوں بچوں نے جانا ہوتا ہے اور وہاں سے پھر بسوں کے ذریعہ سے تمام لوگ جلسہ گاہ لائے جاتے۔بہر حال یہ تجربہ اتنا کامیاب نہیں ہوا اور پھر کیونکہ فوری طور پر ہنگامی نوعیت کا انتظام کیا گیا تھا۔اس لئے معاونین اور منتظمین کی بھی اس پارکنگ کی جگہ پر کمی رہی۔یہ جگہ ایم اوڈی (MOD) کی جگہ کہلاتی ہے جو بہتر ثابت نہیں ہوئی۔پھر اگلے دن وہاں سے پارکنگ چھوڑنی پڑی۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ گھروں کے سامنے کار میں زیادہ عرصہ کھڑی ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں نے ان میں سے سڑکوں پر ہی پارکنگ کر لی اور پھر مسافروں کو لاتے لے