خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 318

خطبات مسرور جلد پنجم 318 خطبه جمعه 03 / اگست 2007 ء لوگوں کو سمجھا نا چاہئے کہ جس مقصد کے لئے تم یہاں آئے ہو وہ تو اس رویہ کی اجازت نہیں دیتا۔بہر حال اگر یہ صحیح ہے کہ بعض بے صبری کے مظاہرے ہوئے تو ایسے اظہار کرنے والوں کو بہت استغفار کرنا چاہئے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا عموماً لوگ حقیقت کو سمجھتے رہے اور انتظامیہ سے متعلق زیادہ شکوے شکایت پیدا نہیں ہوئے اور انہوں نے انتظامیہ سے تعاون کیا۔اللہ تعالیٰ ان سب بلند حوصلگی کا مظاہرہ کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جزا دے۔مجھے پتہ ہے کہ بعض جگہ بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں۔بہر حال اس موسم نے ایک بہت بڑا فائدہ انتظامیہ کو یہ پہنچایا کہ بعض حالات میں یا ایسی موسمی شدت کی صورتحال میں جو مسائل پیدا ہو سکتے تھے ان کی طرف انتظامیہ کو تو جہ دلا دی کیونکہ اسلام آباد میں پہلے جلسے ہوتے تھے، وہاں جلسے ہونے کی وجہ سے سوائے ابتدائی چند ایک جلسوں کے جن میں کچھ نہ کچھ دقت پیدا ہوئی عموماً بڑے آرام سے جلسے ہو جایا کرتے تھے۔موسم میں بھی اتنی شدت نہیں ہوتی تھی دوسرے ایک لمبا عرصہ کاروں اور لوگوں کے چلنے کی وجہ سے وہاں کی زمین بھی کافی حد تک بیٹھ گئی تھی ، نرم نہیں تھی اور پکی سڑکیں بھی قریب تھیں۔ہمسائیوں سے پارکنگ کے لئے اچھی اور پکی جگہ مل جاتی تھی۔پھر رشمور میں 2005 ء میں جلسہ ہوا تو وہاں بھی کیونکہ حکومت کے محکمہ کی جگہ تھی اور بڑے فنکشنز کرنے کے لئے ہی انہوں نے وہ جگہ بنائی ہوتی تھی بلکہ بنائی ہوئی ہے۔پھر بارش بھی صرف ان دنوں میں ہوئی لیکن جلسے کے دنوں میں نہیں ہوئی۔اس سال کی طرح کئی ہفتے سے لگا تار بارشیں نہیں ہو رہی تھیں۔تو ان باتوں نے انتظامیہ کو لگتا ہے یہ احساس ہی کبھی نہیں ہونے دیا کہ اگر موسم کے خراب ترین حالات ہو جائیں تو کیا کرنا ہے اور کیا کرنا چاہئے۔بہر حال اس سال کا یہ تجربہ کروا کر اللہ تعالیٰ نے بہت سے انتظامی امور کی طرف انتظامیہ کو بھی توجہ دلا دی ہے۔اس سال جو افسران انتظامیہ کے تھے ، بشمول امیر صاحب جس طرح تین چار دن جلسے کے دنوں میں ان لوگوں کے رنگ اڑے رہے ہیں وہ واقعی ان کے لئے بھی بڑی پریشانی تھی۔مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالی آئندہ یہ بہتر پلاننگ کریں گے۔بہر حال اللہ کی طرف سے جو بھی امتحان ہوتا ہے وہ کام میں بہتری کی راہیں کھولتا ہے اور جو جو کمزوریاں ہمارے سامنے آتی ہیں ان کی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اصلاح ہوتی ہے اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب بھی اصلاح ہوگی اور نہ صرف ان امور کی اصلاح ہوگی بلکہ مزید گہرائی میں جا کر غور کرنے سے بعض ایسے امور کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی جن کے پیدا ہونے کے بہت دُور کے امکانات ہیں۔بہر حال اکثر لوگوں کی یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے 2008ء کے جلسے کے انتظامات ہر لحاظ سے بہترین کرنے کی طرف اس سال تو جہ دلا دی ہے۔تو آئندہ سال لوگوں کی حاضری بھی شاید جو یہاں سب سے زیادہ حاضری کبھی ہوتی ہے اس سے شاید چار پانچ ہزار زیادہ ہی ہو۔بعض کا خیال ہے اگر برٹش ایمبیسی نے ویزے دینے میں کھلے دل کا مظاہرہ کیا تو شاید اس سے بھی زیادہ حاضری ہو جائے۔جو عموماً حاضری ہوتی ہے اس سے 8-10 ہزار زیادہ ہو جائے تو بہر حال جتنی بھی حاضری ہو UK کی جماعت مہمانوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھال سکتی ہے۔