خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 308
خطبات مسرور جلد پنجم 308 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء بارش بھی ہو جایا کرتی تھی اور جلسہ گاہ بھی کھلے آسمان تلے تھی۔نیچے بھی کچھ نہیں، کچی زمین یا پرالی بچھی ہوتی تھی اور کھلا آسمان ( یہاں تو پھر گھاس ہے، کچھ حد تک کیچڑ بھی کم ہے اور آپ کے اوپر مارکی بھی لگی ہوئی ہے ) اس کے باوجود لوگ بیٹھ کر جلسے کے پروگرام بڑے اطمینان سے سنتے تھے، ان کے ایمانوں کی گرمی میں کبھی موسم حائل نہیں ہوا کبھی موسم کی شدت حائل نہیں ہوئی۔قادیان میں شدید سردی میں ہندوستان کے ایسے علاقوں سے بھی لوگ آتے ہیں جہاں سردی نہیں پڑتی ، درمیانہ موسم رہتا ہے اور ان کو سردی کی عادت ہی نہیں اور اس وجہ سے ان کے پاس گرم کپڑے بھی نہیں ہوتے لیکن سخت گہر میں بھی ہم نے دیکھا کہ وہ آرام سے بیٹھے جلسہ سنتے ہیں اور بڑے شوق سے جلسے کے لئے آتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے گھانا کا دورہ فرما یا تھا تو جماعت سے خطاب کے دوران شدید بارش شروع ہو گئی۔کھلا میدان تھا ، او پر کوئی مار کی نہیں تھی، کوئی اوپر سایہ نہیں تھا۔اتنی شدید بارش تھی کہ با وجود چھوٹی سی چھتری کے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے اوپر رکھی ہوئی تھی ، آپ بھی بھیگ گئے تھے۔چھتری بھی کوئی کام نہیں کر رہی تھی اور لوگ بھی بارش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خاموشی سے کھڑے رہے اور کم از کم بیس پچیس منٹ یا آدھا گھنٹہ شدید بارش میں بھیگتے رہے لیکن مجال ہے کہ کوئی ادھر سے اُدھر ہوا ہو بلکہ جہاں کھڑے تھے وہاں اتنا پانی کھڑا ہو گیا کہ ان کے پاؤں بھی ٹخنوں سے اوپر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔بوٹ ، جرا ہیں، کپڑے سب بھیگے ہوئے تھے۔پھر دو سال پہلے جب میں نے تنزانیہ کا دورہ کیا ہے تو لجنہ کے خطاب کے دوران شدید بارش ہو گئی۔وہاں مارکیاں بھی اتنی مضبوط نہیں ہوتیں اور نیچے پولز (Pols) کی سپورٹ بھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔بارش اتنی شدید تھی کہ مار کی کی چھت جو کہ پوری طرح تکون نہیں تھی اس کے تکون نہ ہونے کی وجہ سے پانی کا صحیح طرح نکاس نہیں ہور ہا تھا۔اور پانی اوپر جمع ہونا شروع ہو گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ مار کی پانی کے وزن سے پھٹ گئی اور پانی ایک شدید شرائے سے نیچے آیا لیکن عورتیں اور بچے خاموشی سے بیٹھے رہے۔کہا جاتا ہے کہ عورتوں میں صبر نہیں ہوتا ، ادھر ادھر ہو جاتی ہیں۔افریقہ کے دور دراز ملک کے لوگ جن میں نو مبائعین بھی تھے جو پہلی دفعہ جلسہ سننے کے لئے آئے تھے خاموشی سے بیٹھے رہے۔مجال ہے جو کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار کیا ہو۔کسی قسم کی گھبراہٹ کے بغیر انہوں نے ساری تقریر سنی اور مجھے احساس نہیں ہوا کہ اتنی شدت سے پانی ان کے اوپر آرہا ہے۔جب بھی پانی آتا تھا ایک طرف ہو جاتی تھیں۔کچھ بھیگ بھی گئیں اور اس کے پھٹنے کے بعد بھی جیسا کہ میں نے کہا مسلسل بارش ہوتی رہی اور مختلف جگہوں سے مار کی پھٹتی رہی اور پانی ان کے اوپر گرتا رہا اور تھوڑا بہت بھی نہیں بلکہ شرائے سے نیچے گرتا رہا لیکن