خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 307

خطبات مسرور جلد پنجم 307 (30) خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2007 (27 روفا1386 ہجری شمسی) بمقام حدیقۃ المہدی۔آلٹن (برطانیہ) تشہد، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔موسم کی وجہ سے انتظامیہ بھی فکر مند ہے کیونکہ موسم تمام ملک میں خراب ہی ہے اور بعض لوگ بھی شاید اس خوف سے کہ بے آرامی نہ اٹھانی پڑے یا بچوں کے ساتھ دقت نہ پیش آئے یا پیچھے اپنے گھروں کا خوف رکھتے ہوئے ہچکچائیں۔تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور دونوں طرف کے لوگوں کی پریشانیاں دور فرمائے ، انتظامیہ کی پریشانیاں بھی دور فرمائے اور جو مہمان آرہے ہیں ان کی بھی پریشانیاں دور فرمائے۔ہمیشہ یادرکھیں کہ یہ جلسہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدائی منشاء کے مطابق شروع کیا تھا تاکہ آپ کے ماننے والے ایک خاص ماحول میں چند دن گزار کر علمی اور روحانی ترقی کی طرف لے جانے والے خطابات سن کر اپنی دینی، علمی اور روحانی حالت کو سنوارنے والے بنیں۔پس یہ دن انتہائی برکت کے دن ہیں اور جب ہم خالصتا اللہ تعالیٰ کے مسیح کے جاری کردہ روحانی پروگرام میں شمولیت کے ارادے سے یہاں آئیں گے تو یقینا ہمارے دل اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کی طرف بھی مائل ہوں گے اور ان دعاؤں میں یہ دعا بھی شامل ہو جائے گی کہ اے میرے قادر مطلق خدا ! اے زمین و آسمان کے مالک خدا! ہم تیرے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس مجلس میں آئے ہیں جہاں تیرے اور تیرے رسول ﷺ کے نام کی سربلندی کے لئے منصوبے بنائے جاتے ہیں تلقین کی جاتی ہے۔اس لئے اس موسم کو بھی جو تیرے ہی تابع ہے ہمارے پروگراموں میں کسی بھی قسم کی روک ڈالنے سے روکے رکھ۔تو یقینا اللہ تعالیٰ موسم کے بداثرات سے بچاتے ہوئے ہمیں اپنے پروگراموں کے احسن طور پر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے گا اور موسم ہمارے پروگراموں میں کسی بھی روک کا باعث نہیں بنے گا انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو۔مجھے یاد ہے ربوہ میں جب جلسے ہوا کرتے تھے تو سردیوں میں دسمبر کے مہینے میں جلسہ ہوتا تھا اور بعض دفعہ