خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 225

225 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم اسے اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اٹھائے رکھا اور تکلیف ہی کے ساتھ اُسے جنم دیا اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کا زمانہ 30 مہینے ہے۔یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا اور 40 سال کا ہو گیا تو اس نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے تو فیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجالاؤں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری ذریت کی اصلاح کر دے، یقیناً میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلاشبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔یعنی حقیقی فرمانبردار میں تبھی بن سکتا ہوں، حقیقی اسلام میرے اندر بھی داخل ہو سکتا ہے، سلامتی پھیلانے والا میں تبھی کہلا سکتا ہوں جب ان حکموں پر عمل کرتے ہوئے جس میں سے ایک حکم یہ ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔ان کے احسانوں کو یاد کر کے ان سے احسان کا سلوک کرو۔ان نعمتوں کا شکر گزار بنو۔جو انسان یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو مجھے ان نعمتوں کا شکر گزار بنا جو تو نے مجھے پر کی ہیں، جو مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کی ہیں میرے والدین پر کی ہیں کہ ان کی اولا د سلامتی پھیلانے والی اور نیک اعمال کرنے والی ہو اور پھر آئندہ نسل کی سلامتی اور نیکیوں پر قائم رہنے کی بھی دعا اے خدا میں تجھ سے مانگتا ہوں۔یہاں والدین کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہاں ایسے والدین کا ذکر ہے جن کی اولا دنیکیوں میں بڑھنے والی اور نیک اعمال کرنے والی ہو۔پس والدین کو اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے اس کے حضور جھکتے ہوئے اولاد کی ایسی تربیت کرنی چاہئے جو سلامتیاں بکھیر نے والی ہو۔جو فرمانبردار ہو ورنہ وہ ماں بھی تو تھی جس کا کان یا زبان اس کے بیٹے نے اس لئے کاٹ لی تھی کہ اگر یہ مجھے صحیح راستے پر ڈالنے والی ہوتی ، مجھے سلامتی اور فساد کا فرق بتانے والی ہوتی تو آج میں ان جرموں کی وجہ سے جو میرے سے سرزد ہوتے رہے پھانسی کے تختے پر چڑھنے کی بجائے تیرے لئے رحم اور فضل کی دعا مانگ رہا ہوتا، ہر شر سے محفوظ رہنے کی دعامانگ رہا ہوتا۔پس والدین کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہئے۔اس آیت میں دونوں کو توجہ دلاتی ہے۔پہلے اولاد بن کر والدین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے لئے دعا پھر ماں باپ بن کر اولاد کی اصلاح اور نیکیوں پر قائم رہنے کے لئے دعا۔تو یہ دعائیں ہیں جو ایک بچے عابد کو اپنے بڑوں کے بھی اور اپنے بچوں کے بھی حقوق ادا کرتے ہوئے اسے سلامتی پھیلانے والا بنا ئیں گی۔پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنے قریبی رشتہ داروں کا بھی خیال رکھو، ان سے بھی احسان کا سلوک کرو۔یہ حسن سلوک ہے جس سے تمہارے معاشرے میں صلح اور سلامتی کا قیام ہوگا۔قریبی رشتہ داروں میں تمام رحمی رشتہ دار ہیں، تمہارے والد کی طرف سے بھی اور تمہاری والدہ کی طرف سے بھی۔پھر بیوی کے رحمی رشتہ دار ہیں۔پھر خاوند کے رحمی رشتہ دار ہیں۔دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہو گئی کہ ایک دوسرے کے رحمی رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو، ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو، ان کے لئے نیک جذبات اپنے