خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 179
خطبات مسرور جلد پنجم 179 (18) خطبہ جمعہ 4 رمئی 2007 ء فرمودہ مورخہ 04 مئی 2007 (104 ہجرت 1386 ہجری کشی بمقام مسجد بیت الفتوح بلندن (برطانیہ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کو میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی شدید بیماری کے پیش نظر دعا کی درخواست کی تھی، اس کے بعد مجھے کئی مخلصین کے خط بھی آئے ، بڑے درد کے ساتھ لوگوں نے دعائیں کیں لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی اور دو دن بعد وہ اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کی خدمات اور ان کی قربانیوں اور ان کی خوبیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کی گئی دعائیں یقینا اللہ تعالیٰ کے حضور اگلے جہان میں ان کے درجات کی بلندی کا باعث بنیں گی۔انشاء اللہ میں امید رکھتا ہوں کہ ایسے بے نفس قربانی کرنے والے اور ہمہ وقت وقف کی روح سے کام کرنے والے، غریبوں کی مدد کرنے والے، ان کے کام آنے والے جماعت کی غیرت رکھنے والے اور خلافت کے فدائی سے اللہ تعالیٰ پیار کا سلوک فرمائے گا انشاء اللہ۔انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے گا۔اب بھی لوگوں کے بے شمار تعزیت کے خطوط آ رہے ہیں، افسوس کے لئے لوگ مجھے ملنے بھی آئے ، اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے۔جو اس دنیا میں آیا اس نے اس دنیا سے جانا بھی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے اسی طرح چلتا رہے گا۔لیکن خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی زندگیاں خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور اس کے دین کی خدمت کرتے ہوئے گزارتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا دردر کھتے ہیں اور اس کے لئے عملی نمونے بھی دکھاتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب بھی یقینا ایسے لوگوں میں سے ہی ایک تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ان کی وفات پر جیسا کہ میں نے کہا لوگوں کے تعزیت کے خطوط بھی آ رہے ہیں اور ان خطوط میں یہ اظہار بھی ہو رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل کی ایک نشانی جودار مسیح قادیان میں تھی ، آپ نہیں رہی۔بیح ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے بہت حد تک قادیان کے احمدیوں کے ساتھ خصوصاً اور جماعت ہندوستان کے افراد کے ساتھ عموماً ایسا تعلق رکھا ہوا تھا جس سے لوگوں کو بہت تسلی ہوتی تھی اور آپ کی بات کا بہت پاس اور لحاظ رکھا کرتے تھے۔