خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 140
140 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم برائیوں میں نہیں بڑھا تا کہ اللہ تعالیٰ نے بخش دینا ہے جو مرضی کئے جاؤ۔بلکہ یہ سلوک اسے اتنی مہربانی اور رحم کرنے والے خدا کی طرف جھکانے والا ہونا چاہئے۔یہ سلوک اپنے گناہوں کی طرف نظر کر کے استغفار کی طرف توجہ دلاتا ہے، اس کی عبادت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔کیونکہ باوجود اللہ تعالیٰ کے اتنا رحم کرنے کے اللہ فرماتا ہے کہ بعض گناہ میں نہیں بخشوں گا اور فرمایا کہ شرک کا گناہ میں معاف نہیں کروں گا۔(النساء: 49) ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب عز وجل کے حوالے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم ! تو مجھ سے دعا نہیں کرتا اور مجھ سے امید بھی وابستہ کرتا ہے۔میں تیری بدیوں کے باوجود تجھے بخش دوں گا خواہ تو مجھے ایسے حال میں ملے کہ تیری بدیاں زمین کے برابر بھی ہوں تو میں تجھے اس کے برابر مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔اور اگر تیری خطائیں آسمان کی انتہا تک بھی پہنچ جائیں سوائے اس کے کہ تو نے میرا کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو۔پھر اگر تو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں بخش دوں گا اور کچھ بھی پرواہ نہیں کروں گا۔(مسند احمد بن حنبل، مسند، ابو ذر غفاری جلد 7 صفحه 208 حدیث : 21837) پس شرک سے بچنا ضروری ہے۔شرک کی بے شمار قسمیں ہیں۔دوسرے یہاں فرمایا کہ میرے سے بخشش طلب کرو۔پس دعاؤں کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک ہے، اس کی مالکیت کی صفت کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔گناہوں پر اس لئے دلیر ہو جانا کہ اللہ تعالیٰ نے بخش ہی دینا ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس مالک سے بخشش مانگنے کے لئے ایک دعا سکھائی ہے جو جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے، یہ وہ بہتر جانتا ہے کہ کس کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علہ جب بستر پر لیٹتے تو یہ کہتے تھے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى كَفَانِي وَ آوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِى وَ الَّذِى مَنَّ عَلَيَّ وَأَفْضَلَ ، وَالَّذِي أَعْطَانِي | فَاجْزَلَ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اَللَّهُمَّ رَبَّ كُلَّ شَيْءٍ وَمَلِكَ كُلِّ شَيْءٍ وَالهُ كُلِّ شَيْءٍ وَلَكَ كُلُّ شَيْءٍ أَعُوذُبِكَ مِنَ النَّارِ۔یعنی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو میرے لئے کافی ہے اور جس نے مجھے پناہ دی اور مجھے کھانا کھلایا اور مجھے پانی پلایا اور وہی ہے جس نے مجھ پر احسان کیا اور اپنے فضل سے نوازا اور وہی ہے جس نے مجھے بہت زیادہ عطا کیا اور ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔اے اللہ ! ہر چیز کے رب، ہر چیز کے بادشاہ ہر چیز کے معبود اور ہر چیز تیرے ہی لئے ہے میں آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔(مسند احمد بن حنبل ، مسند عبدالله بن عمر الخطاب جلد 2 صفحه 495 حدیث : (5983) اللہ تعالیٰ نے جو یہ اتنے احسان کئے ہیں اگر آدمی یا در کھے تو شرک کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور پھر یہ دعا کہ تیرا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے میں تیرے آگے جھکنے والا رہوں اور تیری پناہ میں رہوں تا کہ آگ سے بچایا جاؤں۔