خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 139

خطبات مسرور جلد پنجم 139 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء ان کی تربیت کی طرف توجہ نہ دے کر صحیح طرح نگرانی نہیں کی گئی۔اگر دنیاوی حکومتیں بھی یہ سمجھیں، دنیا کی نظر سے اگر دیکھیں تو ان کو بھی یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جس مال کا بہترین مصرف بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رعایا کو، ملک کی آبادی کو تمہارے سپرد کیا تھا، ان کی ذمہ داریاں نہ نبھا کر، ان کے حقوق ادا نہ کر کے، ان کے تعلیمی اور دوسرے ترقیاتی مسائل پر توجہ نہ دے کر جو مالک گل ہے اس کی طرف سے ودیعت کردہ ذمہ داری کا حق ادا نہیں کیا۔اس لحاظ سے وہ بھی جوابدہ ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے احساس ذمہ داری کے ساتھ دعاؤں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ سب کو، ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس میں گویا چار باتیں ہیں لیکن بنیادی اکائی سے لے کر ایک عام آدمی سے لے کر امامت تک، ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے حساب سے بچنے کے لئے ایک خوفزدہ شخص کی مثال حدیث میں یوں دی گئی ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے:۔حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال اور اولا دعطا کی تھی۔جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میں تمہارے لئے کیسا باپ رہا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بہتر باپ۔اس نے کہا لیکن میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں چھوڑی اور جب میں اللہ کے حضور پیش ہوں گا تو مجھے عذاب دے گا۔اس لئے دھیان سے سنو کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور جب میں کوئلہ بن جاؤں مجھے پہیں دینا اور پھر اس طرح پینا کہ راکھ اتنی باریک ہو کہ جو ہلکی سی ہوا سے بھی اڑنے والی ہوتی ہے اور پھر کہا کہ جب شدید آندھی چلے تو میری راکھ کو اس میں اڑادینا اور اس نے اس بات کا پختہ عہد لیا۔نبی کریم اللہ فرماتے ہیں کہ میرے رب کی قسم انہوں نے ایسا ہی کیا۔اللہ نے اس راکھ کو، اس کو جو ہوا میں اڑائی گئی تھی کہا کہ تو ہو جا تو وہ مجسم شخص کی صورت میں کھڑا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس راکھ کو اکٹھا کیا اور مجسم بنا دیا۔پھر اللہ نے پوچھا اے میرے بندے! کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پرا کسایا تھا۔اس نے کہا تیرے خوف نے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی اس پر رحم کرتے ہوئے کی۔(بخاری کتاب الرقاق باب الخوف من الله عزّ وجل حديث : 6481) پس یہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ (البقرة: 285) تو یہ اس کی ایک تصویر ہے۔مرتے ہوئے کا خوف بھی اس کی بخشش کا سامان کر گیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مالکیت کے ضمن میں فرماتا ہے وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا - ( النساء: 101 ) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس اس شخص کو اللہ کا خوف تھا جس نے اس کو اپنی لاش کے ساتھ یہ سلوک کروانے پر مجبور کیا۔لیکن مالک نے رحم فرماتے ہوئے اس کی بخشش کے سامان کر دیئے۔لیکن ایک مومن بندے کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ایک مومن کو