خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 117

117 خطبہ جمعہ 23 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کیلئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اُس کے غیر کو اُس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یا درکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کیلئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کیلئے زندہ ہے“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 13-14) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کے مقام کی پہچان کروانا اور دوسرے مذاہب کے حملوں سے بچانا تھا اور نہ صرف بچانا بلکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلانا بھی تھا، اُس ہدایت سے دنیا کو روشناس کروانا بھی تھا جو آخری شرعی نبی کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر اتاری تھی اور جس کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ آخری زمانے میں مسیح و مہدی نے آ کر یہ کام کرنا ہے کہ اسلام کو تمام ادیان پر اللہ تعالیٰ کی مدد سے غالب کرنا ہے۔آپنے یہ دعوئی فرمایا کہ وہ مسیح و مہدی جو آنا تھا وہ میں ہوں اور اپنے دعوے کی سچائی میں آپ نے بیشمار پیشگوئیاں فرما ئیں جو بڑی شان سے پوری ہوئیں۔ان میں زلازل کی پیشگوئیاں بھی ہیں، طاعون کی پیشگوئی بھی ہے اور دوسری پیشگوئیاں ہیں۔پس یہ تمام نشانیاں جو آپ کی تائید میں پوری ہوئیں، یہ زمینی اور آسمانی آفات کی پیشگوئیاں جو آپ کی تائید میں پوری ہو ئیں ، یہ آپ کی سچائی پر دلیل تھیں۔پھر آنحضرت ﷺ کی یہ عظیم الشان پیشگوئی کہ ہمارے مہدی کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی چاند اور سورج کا خاص تاریخوں میں گرہن لگتا ہے جو پہلے کبھی کسی کی نشانی کے طور پر اس طرح نہیں ہوا کہ نشانی کا اظہار پہلے کیا گیا ہو اور دعویٰ بھی موجود ہو۔ان سب باتوں کے ساتھ ایک شخص کا دعویٰ کہ آنے والا مسیح و مہدی میں ہوں اگر اپنی امان چاہتے ہو تو میری عافیت کے حصار میں داخل ہو جاؤ۔یہ سب کچھ اتفاقات نہیں تھے۔عقل رکھنے والوں کیلئے ، سوچنے والوں کیلئے ، یہ سوچنے کا مقام ہے۔احمدی خوش قسمت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس موعود کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد ہم نے بھی اس پیغام کو جس کو لے کر آپ اٹھے تھے ، دنیا میں پھیلانا ہے تا کہ خدا کی تو حید دنیا میں قائم ہو اور آنحضرت ﷺ کا جھنڈا تمام دنیا میں لہرائے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے، یہ تو ہونا ہے۔ہم نے تو اس کام میں ذراسی کوشش کر کے ثواب کمانا ہے، ہمارا صرف نام لگنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو سعید فطرت لوگوں کو تو حید پر قائم کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی امت میں شامل