خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 103
خطبات مسر در جلد پنجم 103 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء سے اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے لئے ہوتا ہے۔اپنے ماحول کے لئے اس کے دل میں قدر دانی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ان کو بھلائی پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔پھر انسان اس رحیمیت کے دور سے ترقی کرتا ہے تو رحمانیت کی صفت اختیار کر لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا ایک مومن رحمانیت کا اظہار کرتا ہے۔اپنے پرائے سب بغیر کسی تفریق کے اُس کے نیک سلوک سے حصہ لے رہے ہوتے ہیں۔معاشرے میں وہ نیکیاں پھیلا رہا ہوتا ہے۔اور یہ چیز اِبْتَاءِ ذِی القربی کا نقشہ پیش کر رہی ہے، احسان سے بڑھ کر آگے چل رہی ہے۔پھر جب اس سے ترقی کرتا ہے تو رب العالمین کا مظہر بننے کے لئے سوسائٹی کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔وہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں یہ ساری چیزیں پنپ سکیں۔یہ بیان کرنے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس ترتیب سے جو بیان ہوئی ہے جو ان صفات کو اختیار کرتا ہے تو یہ سالکوں کے لئے اللہ کی طرف بڑھنے والوں کے لئے ایک رحمت ہوتی ہے۔عام طور پر بھی دیکھیں تو انسان کی صفات، اس کی خوبیاں اُس وقت ہی کھل کر سامنے آتی ہیں جب اُس کے پاس کوئی طاقت ہو، اختیار ہو، کوئی ملکیت ہو۔اعلیٰ اخلاق کا اُسی وقت پتہ چلتا ہے جب طاقت ہو، جب ایک مقام ہو۔کمزور اور بے بس نے کسی سے رحیمیت کا کیا سلوک کرنا ہے اور کیا رحمانیت کا سلوک کرنا ہے اور پھر اسی طرح کسی سے ربوبیت کا کیا اظہار ہوتا ہے۔اپنے اپنے ماحول میں جو بھی ہے جتنا بھی ملکیت رکھتا ہے اس کو وہاں ان صفات کا اظہار کرنا چاہئے کیونکہ یہ کسی کی ملکیت کا زعم ہی ہے جو انسان کے دل میں تکبر اور نفرت بھی پیدا کرتا ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد اول صفحه (27) پس اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا فضل حاصل کرنے کے لئے ان صفات پر غور کرنا اور اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھالنا انتہائی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضلوں سے ہمیشہ حصہ دیتا رہے اور جزا سزا کے دن بھی رحم حاصل کرنے والے ہوں۔گزشتہ جمعہ میں میں نے جس شہید کا ذکر کیا تھا اُن کا نام بتانا بھول گیا تھا یہ محمد اشرف صاحب ہیں تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے جن کو شہید کیا گیا تھا۔جونو مبائع تھے۔دوسرا آج ایک اور افسوسناک خبر بھی ہے کہ ہمارے ایک پرانے خادم سلسلہ، مربی اور استاد جامعہ احمدیہ چوہدری منیر احمد عارف صاحب گزشتہ دنوں وفات پاگئے تھے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کی عمر 78 سال تھی اور 1946ء میں انہوں نے زندگی وقف کی تھی۔جامعہ 1956ء میں پاس کیا اور تقریباً 50 سال تک جماعتی خدمات سرانجام دیتے رہے۔برما میں مبلغ رہے، نائیجیریا میں مبلغ رہے۔پھر جامعہ میں بطور استادخدمات انجام دیتے رہے۔