خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 88
خطبات مسرور جلد پنجم 88 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی کا بوسہ لیا اور آپ کے پاس اقرع بن حابس التمیمی بیٹھے ہوئے تھے۔تو اقرع نے کہا میرے دس بچے ہیں میں نے کبھی بھی ان میں سے کسی کو نہیں چوما۔تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا جو تم نہیں کرتا ، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ (صحيح بخارى كتاب الأدب باب رحمة الولد وتقبله ومعانقته۔حديث نمبر 5997) بچوں کو پیار کرنا ، ان کی تربیت کرنا یہ بھی ایک رحم کے جذبے کے تحت ہونا چاہئے۔اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کے رحم کو سمیٹنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرنے والی ہے۔رض عبد الله بن بسر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے والد کے ہاں بطور مہمان تشریف لائے ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا جسے آپ نے تناول فرمایا۔پھر آپ کے پاس کھجور میں لائیں گئیں آپ انہیں کھاتے جاتے تھے اور اپنی دوانگلیوں سے ( شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے گٹھلیاں ایک طرف رکھتے جاتے تھے۔پھر آپ کے پاس مشروب لایا گیا۔جسے آپ نے پینے کے بعد اپنے داہنے ہاتھ بیٹھے ہوئے شخص کو دیا۔میرے والد نے آپ کی سواری کی لگا میں پکڑے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے لئے دعا کریں۔آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! جو تو نے انہیں رزق عطا کیا ہے اس میں ان کے لئے برکت ڈال دے اور ان کو بخش دے اور ان پر رحم فرما۔(سنن الترمذى كتاب الدعوات باب فى دعاء الضيف حديث نمبر (3576 آپ کو علم تھا کہ آپ کی دعا ان لوگوں کی زندگیاں بھی سنوارنے والی ہے اور عاقبت سنوارنے کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔اور شکر گزاری کے جذبات سے بھی آپ کا دل بھرا ہوا تھا۔جو خدمت انہوں نے اس وقت کی اس کا تقاضا تھا کہ ان کو اس سے بہت بڑھ کر دیا جائے۔اور آپ کی دعاؤں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل کو اور رحم کو سمیٹنے والی اور کیا چیز ہوسکتی تھی جس کی برکتیں ان کے بھی اور ان کی نسلوں کے بھی ہمیشہ کام آنے والی تھیں۔وضین سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! ہم جاہل تھے اور بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ہم اپنے بچوں کو قتل کیا کرتے تھے۔میری ایک بیٹی تھی۔جب وہ جواب دینے کی عمر کو پہنچی اور جب میں اُسے بلاتا تو وہ بڑی خوش ہوتی۔ایک دن میں نے اسے بلایا تو وہ میرے پیچھے ہولی۔میں چلتا گیا یہاں تک کہ میں اپنے خاندان کے کنویں تک آپہنچا جو زیادہ دور نہ تھا۔چنانچہ میں نے اپنی بیٹی کو اس کے ہاتھ سے پکڑ کر اس کنویں میں پھینک دیا اور میں نے جو اس کی آخری آواز سنی وہ یھی کہ وہ کہہ رہی تھی کہ اے میرے ابا ! اے میرے اتبا۔رسول اللہ ﷺ رو پڑے۔آپ کے آنسو آہستہ آہستہ بہنے لگے۔اُس وقت رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں جو لوگ بیٹھے تھے اُن میں سے ایک شخص نے کہا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کو نمگین کر دیا ہے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم