خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 79

خطبات مسر در جلد پنجم 79 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء کا قتل کریں ان سے شفقت اور رحم کا سلوک ہے کہ آپ بھوکے رہ کر یا روکھی سوکھی کھا کر ان کو اچھا کھلایا جا رہا ہے۔آج اس سرا پا رافت اور رحم پر یہ الزام لگانے والے یہ بتائیں کہ جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر جو وہاں کی تمام آبادی کو جلا کر بھسم کر دیا تھا، بچے بوڑھے، عورتیں ، مریض ، سب کے سب چشم زدن میں راکھ کا ڈھیر ہو گئے تھے بلکہ اردگرد کے علاقوں میں بسنے والے بھی اس کی وجہ سے سالوں بلکہ اب تک بہت ساری خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں ، نئے پیدا ہونے والے بچے اپاہج پیدا ہورہے ہیں۔کیا یہ ہیں اعلیٰ اخلاق ؟ جن کے انجام دینے والوں کو یہ لوگ امن پسند اور امن قائم کرنے والا کہتے ہیں۔عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کو یہ لوگ کیا نام دیتے ہیں۔تم لوگ یا درکھو کہ ان تمام زیادتیوں کے باوجود اسلام کا خدا جس نے اپنے پیارے نبی ، جو ہر ایک کے لئے رؤف و رحیم تھے، پر جو تعلیم اتاری ہے، جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، وہ اتنی خوبصورت تعلیم ہے کہ اگر وہ سمجھنے والے ہوں تو سمجھ جائیں۔ایک آیت کا میں ذکر کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے گناہگاروں کو بھی بخشنے کے سامان فرمائے ہوئے ہیں۔فرماتا ہے۔إِلَّا مَنْ تَابَ وَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَتٍ۔وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان (71) سوائے اس کے جو تو بہ کرے اور ایمان لائے ، نیک عمل بجا لائے۔پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی بدیوں کو اللہ تعالیٰ خوبیوں میں بدل دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار با ررحم کرنے والا ہے۔پس اس ارشاد کی روشنی میں ان لوگوں کو اپنے آپ کو دیکھنا چاہئے۔مسلمانوں کی دلآزاری کرنے کی بجائے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے۔خود ان میں کتنی نیکیاں ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی ہتک کرنے کی بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہئے۔آج مغرب میں جو بے شمار برائیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ اپنے گریبان میں نہ جھانکنے کی وجہ سے ہیں۔تمہارے گھروں کے چین اور سکون جو بر باد ہوئے ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ نہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ اب بھی اپنے خدا کو پہچان لو اور اس کے پیاروں کے بارے میں بیہودہ گوئیوں سے باز آ جاؤ اور رحیم خدا کو پکارو کہ وہ بخش دے۔احمدیوں سے میں پھر یہ کہتا ہوں کہ اپنے اوپر اسلام کی تعلیم لاگو کرتے ہوئے ان عقل کے اندھوں یا کم از کم ان لوگوں کو جو ان کے زیر اثر آ رہے ہیں اور خدا کے پیاروں سے ہنسی ٹھٹھے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ، ان کو سمجھائیں کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو نہ تمہاری بقا ہے اور نہ تمہارے ملکوں کی بقا ہے۔کوئی اس کی ضمانت نہیں۔پس اگر اپنی بقا چاہتے ہو تو