خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 80

خطبات مسرور جلد پنجم 80 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء اس محسن انسانیت اور اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی ﷺ کی ذات پر حملے بند کرو ، اس سے تعلق پیدا کرو۔اگر تعلق نہیں بھی رکھنا تو کم از کم شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ خاموش رہو۔جنگوں کے علاوہ موسمی تغیرات کی وجہ سے بھی آجکل دنیا تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ہالینڈ تو وہ ملک ہے جس میں اس لحاظ سے بھی شرک بڑھا ہوا ہے کہ یہاں کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ باقی دنیا کو تو خدا نے بنایا ہے لیکن ہالینڈ کو ہم نے بنایا ہے۔سمندر سے کچھ زمین نکال لینے کی وجہ سے ان کے دماغ الٹ گئے ہیں۔یہ نہیں سمجھتے کہ ملک کا اکثر حصہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔جب طوفان آتے ہیں ، جب آفات آتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے عذاب آتے ہیں تو پھر وہ پہاڑوں کو بھی غرق کر دیتے ہیں۔پس ان لوگوں کو بھی اور دنیا میں ہر جگہ انسانیت کو اس حوالے سے خدا کے قریب لانے کے لئے احمدی کی ذمہ داری ہے۔اپنی ذمہ داری کو بھی سمجھیں اور خود بھی اس نبی ﷺ کے اسوہ پر چلتے ہوئے رحم کے جذبے کے تحت انسانیت کو بچانے کی فکر کریں۔دنیا کو ایک خدا کی پہچان کروائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو بہ کرنے والے، ایمان لانے والے اور پھر ایمان پر قائم رہتے ہوئے صالح عمل کرنے والے ہی ہیں جن کی بخشش ہو سکتی ہے۔پس یہ پیغام عام کر دیں ورنہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے پیارے پر ظالمانہ حملے کر کے عذاب کو دعوت دے رہی ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ارضی و سماوی آفات کی خبر اپنی صداقت کے طور پر بھی دی ہے۔اس لئے بڑے خوف کا مقام ہے اور دنیا کو بڑی شدت سے متنبہ کرنے کی ضرورت ہے۔آنحضرت ﷺ کا مقام ان پر واضح کرنے کی ضرورت ہے۔اس نور کو دکھانے کی ضرورت ہے جس نے اُجڈ اور جاہل عرب کو اس زمانے میں مہذب ترین اور باخدا بنادیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دنیا میں ایک رسول آیا تا کہ ان بہروں کو کان بخشے کہ جو نہ صرف آج سے بلکہ صد ہا سال سے بہرے ہیں۔کون اندھا ہے اور کون بہرا، وہی جس نے تو حید کو قبول نہیں کیا اور نہ اس رسول کو جس نے نئے سرے سے زمین پر تو حید کو قائم کیا۔وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسان سے با اخلاق انسان یعنی بچے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا۔اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الہی رنگ سے رنگین کیا۔وہی رسول، ہاں و ہی آفتاب صداقت جس کے قدموں پر ہزاروں مُردے شرک اور دہریت اور فسق اور فجور کے جی اٹھے اور عملی طور پر قیامت کا نمونہ دکھلایا۔نہ یسوع کی طرح صرف لاف و گزاف۔جس نے مکہ میں ظہور فرما کر شرک اور انسان پرستی کی