خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 70
خطبات مسرور جلد پنجم 70 خطبہ جمعہ 16 فروری 2007ء ہے، دعاؤں کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے اور صرف سطحی قسم کی دعا ئیں نہیں، انتہائی تفرع اور عاجزی سے گڑ گڑاتے ہوئے اس کے سامنے جھکنا ہے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ دینی ہوگی۔اور پھر اس کے علاوہ جو بھی مجاہدہ کسی بھی کام کرنے کے لئے ضروری ہے اس کو اختیار کرنا ہوگا۔فرمایا: ”اور اس فیضان کو وہی پاتا ہے جو ڈھونڈتا ہے۔جو ڈھونڈے گا اس کو اللہ تعالیٰ کا فیضان ملے گا۔اور اُسی پر وارد ہوتا ہے جو اس کے لئے محنت کرتا ہے۔اور اس فیضان کا وجود بھی ملاحظہ قانون قدرت سے ثابت ہے۔کیونکہ یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ خدا کی راہ میں سعی کرنے والے اور غافل رہنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوشش کرنے والے ہوں اور ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے غافل بیٹھے ہوں وہ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔”بلاشبہ جو لوگ دل کی سچائی سے خدا کی راہ میں کوشش کرتے ہیں اور ہر یک تاریکی اور فساد سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ایک خاص رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے۔اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ کا نام قرآن شریف میں رحیم ہے اور یہ مرتبہ صفت رحیمیت کا بوجہ خاص ہونے اور مشروط به شرائط ہونے کے مرتبہ صفت رحمانیت سے مؤخر ہے۔یعنی بعد میں آیا ہے ” کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے اول صفت رحمانیت ظہور میں آئی ہے۔پھر بعد اس کے صفت رحیمیت ظہور پذیر ہوئی۔پس اسی ترتیب طبعی کے لحاظ سے سورۃ فاتحہ میں صفت رحیمیت کو ، صفت رحمانیت کے بعد میں ذکر فرمایا اور کہا الرَّحْمنِ الرَّحِيم اور صفت رحیمیت کے بیان میں کئی مقامات پر قرآن شریف میں ذکر موجود ہے جیسا ایک جگہ فرمایا ہے ــــــــان بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الاحزاب : 44) پہلے میں مثال دے آیا ہوں۔یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمانداروں سے خاص ہے جس سے کا فر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں۔اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا۔لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا که كَانَ بِالْمُؤْمِنِين رَحْمَانًا بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: 57) یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں۔پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے اِنَّ الَّذِينَ امَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ۔وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة: 219) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی ، وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے۔یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور ان لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔“ براهين احمدیه روحانی خزائن جلد اوّل صفحه 450 تا 452 حاشیه نمبر (11)