خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 71
71 خطبہ جمعہ 16 فروری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم یہاں سورۃ بقرہ کی جو یہ آیت ہے إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔۔۔اس ضمن میں یاد آیا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی ایک حدیث کا واقعہ لکھا ہے لیکن مجھے اس سے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کو بھی جماعت میں بہت مقام تھا اور جو صحابہ کی اولاد ہیں، جب بھی کبھی کوئی تعارف کرانے لگے تو ضرور کراتے ہیں کہ میرے نانا یا دادا صحابی تھے۔تو یہ جوان کا صحابی ہونا تھا یہ ان اولادوں کو یہ احساس دلانے والا ہونا چاہئے کہ جس طرح اُنہوں نے اپنے نفس کو بھی کچلا، ہجرت کا حق بھی ادا کیا، اپنے گھر بار کو بھی چھوڑا، قربانیاں بھی کیں۔اس مقام کو ہم نے قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔جس واقعہ کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ حج پر گئے۔تو وہاں کچھ نو جوان جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے ، قریب بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تشریف لائے ، حضرت عمرؓ نے ان نو جوانوں کو فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ کہ یہ صحابی رسول ﷺ ہیں۔خیر وہ پیچھے ہٹ گئے ، تھوڑی دیر کے بعد ایک اور صحابی تشریف لائے ، حضرت عمر نے ان نوجوانوں کو پھر پیچھے ہٹا دیا، ہوتے ہوتے وہ دُور جوتیوں کے پاس چلے گئے۔اور جب وہاں پہنچے تو وہ سارے اچھے خاندانوں کے تھے، ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ ہمارے ساتھ یہ ذلت کا سلوک ہوا ہے، اور باہر نکل گئے۔باہر جا کر باتیں کرنے لگے کہ یہ تو ہمارے ساتھ آج بہت برا ہوا ہے۔ان میں سے ایک زیادہ بہتر ایمان لانے والوں میں سے تھا۔اس نے کہا کہ جو بھی ہوا یہ ہمارے باپ دادا کا قصور ہے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو نہیں مانا اور آج ان کی وجہ سے ہمیں ذلت اٹھانی پڑی۔بہر حال صحابہ رسول کا ایک مقام ہے۔تو خیر انہوں نے کہا اس کا کیا علاج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمر سے ہی پوچھتے ہیں۔تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ آج ہم سے یہ سلوک ہوا ہے۔حضرت عمر نے کہا میں مجبور تھا۔میں تمہارے خاندانی حالات اور وجاہت سب کچھ جانتا ہوں لیکن صحابہ رسول ﷺ جنہوں نے اتنی قربانیاں دی ہوئی ہیں ، ہجرت بھی کی، جہاد میں شامل ہوئے ان کے مقابلے میں تمہاری حیثیت نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں ہمیں سمجھ آ گئی کہ یہی بات ہے لیکن اس کا اب علاج کیا ہے۔حضرت عمر گوان سارے حالات کا پتہ تھا کہ بڑے اچھے خاندان کے یہ لوگ ہیں، ان کے باپ دادا نے بعض حالات میں مسلمانوں کی مددبھی کی ہوئی ہے۔حضرت عمر بھی بڑے جذباتی ہو گئے۔آپ سے بولا نہیں گیا۔آپ نے شام کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ادھر جاؤ۔وہاں اُس زمانے میں جنگ ہو رہی تھی تو بہر حال وہ سات نوجوان تھے چلے گئے اور اس جنگ میں شامل ہوئے۔ملک سے ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا اور شہادت حاصل کی۔تو وہ مقام پایا جس کا اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر فرمایا ہے۔(ملخص از تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 477 تا 479