خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 61

خطبات مسرور جلد پنجم 61 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء کی ضرورت ہے اور دوسرے نیک اعمال بجالانے بھی انتہائی ضروری ہیں۔جن کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے جس میں نفسانی جذبات کو مکمل طور پر ترک کرنا ہے، ہر عمل وہ ہو جواللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو، جس میں قطعاً اپنا نفس شامل نہ ہو اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔بڑا مشکل کام ہے جب نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے۔لیکن جذبات کو کچلے بغیر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مکمل حصہ نہیں ملتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں پھر یہ پورے طور پر نازل نہیں ہوتی۔پس دعاؤں کی قبولیت کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی رحیمیت سے حصہ پانے کے لئے اپنے نفسوں کو ٹولنے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہمارے اعمال نیک ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے ہیں اور اس کی خاطر اپنی خواہشات اور اپنے نفسوں کو کچلنے والے ہیں۔اگر یہ نہیںتو ہمارا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ہم صرف اپنے اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔اس سے مانگنے والے ہیں۔پس اس کے لئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ پوری کوشش اور محنت کی ضرورت ہے۔ایک جہاد کی ضرورت ہے تبھی نفس مکمل طور پر پاک ہو گا۔ریا سے کامل طور پر ہمارے دل تبھی صاف ہوں گے۔ہمارے دل خدائے ذوالجلال کی خوشنودی حاصل کرنے والے تبھی ہوں گے اور پھر جب ایسی صورت پیدا ہو جائے گی تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اس گروہ میں شامل کرے گا جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ نبیوں، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہے اور پھر اس بات کو اپنی زندگیوں میں ہم عملی طور پر دیکھنے والے ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ بھی جو فرمایا ہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا (ابراهیم: 35) تو پھر اللہ کی اتنی نعمتیں ہوں گی کہ تم ان کا شمار بھی نہیں کر سکو گے۔پس اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے اس کی رحیمیت سے حصہ پانے کے لئے ہمیں استغفار کرتے ہوئے اپنے اعمال بھی درست کرنے ہوں گے تبھی اس صفت سے فیضیاب ہو سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو ویسے تو ہر چیز پر ہیں۔اور کوئی ان سے باہر نہیں لیکن وہ رحمانیت کی صفت کے تحت ہیں۔لیکن رحیمیت کی صفت سے حصہ لے کر ایک اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں پر شکر گزاری کا اظہار کرنے والا بن جاتا ہے اور اس زمانے میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے مسیح و مہدی کو ماننے کی توفیق ہمیں عطا فرمائی ہے۔اور دوسرے اس بات کے انکاری ہیں جو کہ عملاً اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت سے ملنے والوں انعاموں سے ہی انکار ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علی اللہ کی روشنی سے حصہ پا کر اس زمانے میں جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں وہ چاند بھیجا جو روشنی پھیلا رہا ہے اس کی بجائے دوسرے جو مسلمان ہیں، پیروں فقیروں کے گھروں پہ جا کر ان دیوں کو روشنی سمجھ رہے ہیں حصہ پا رہے ہیں اور اسی وجہ سے پھر بدعتوں اور برائیوں میں پڑتے چلے جارہے ہیں۔کیونکہ وہ تو روشنیاں بجھتی چلی جارہی ہیں۔پس اس زمانے میں ایک احمدی کو اس رحیم خدا کی رحیمیت سے حصہ لینے کے لئے اس طرح بھی سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمانیت کے صدقے احمدی گھرانوں میں پیدا کیا یا نئے شامل ہونے والے جولوگ ہیں ان کو ، ان کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اپنی رحیمیت کے صدقے احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانے کی توفیق دی۔تو ان فضلوں اور نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شکر گزاری کریں۔اللہ اور اس کے رسول کی کامل اور مکمل اطاعت کریں۔اعمال صالحہ بجالائیں۔اس کی بخشش کے ہر وقت طلب گار رہیں۔