خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 60
خطبات مسرور جلد پنجم 60 60 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء یہ پہلے دو حوالے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑھے ہیں ان کی مزید وضاحت اس حوالے سے ہوتی ہے۔فرماتے ہیں: رحیمیت وہ فیض الہی ہے جو صفت رحمانیت کے فیوض سے خاص تر ہے۔یہ فیضان نوع انسانی کی تکمیل اور انسانی فطرت کو کمال تک پہنچانے کے لئے مخصوص ہے۔لیکن اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا عمل صالح بجا لا نا اور جذبات نفسانیہ کو ترک کرنا شرط ہے۔یہ رحمت پورے طور پر نازل نہیں ہوتی جب تک اعمال بجالانے میں پوری کوشش نہ کی جائے۔اور جب تک تزکیہ نفس نہ ہو اور ریا کو کلی طور پر ترک کر کے خلوص کامل اور طہارتِ قلب حاصل نہ ہو اور جب تک خدائے ذوالجلال کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر موت کو قبول نہ کر لیا جائے۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں ان نعمتوں سے حصہ ملا بلکہ وہی اصل انسان ہیں اور باقی لوگ تو چارپایوں کی مانند ہیں۔( یعنی جانوروں کی طرح ہیں )۔اعجاز اسیح - روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 95-96 - اردو ترجمہ عربی عبارت از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 44 مطبوعہ ربوہ ) یہ جو بیان ہے اس سے پتہ لگا کہ یہ صفت جو ہے یہ انسانی فطرت کو کمال تک پہنچانے والی صفت ہے اور یہ کمال تک پہنچنے والے کون لوگ تھے۔اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سورۃ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے کہ یہ دعا کرو کہ ہمیں ان کمال حاصل کرنے والے لوگوں میں شامل فرما اور وہ کون لوگ تھے۔وہ لوگ تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔یعنی منعم علیہ گروہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: چوتھا سمند رصفت الرَّحِیم ہے اس سے صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : 7) کا جملہ مستفيض ہوتا ہے تا بندہ خاص انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہو جائے کیونکہ رحیمیت ایسی صفت ہے جو انعامات خاصہ تک پہنچا دیتی ہے۔جن میں فرمانبردارلوگوں کا کوئی شریک نہیں ہوتا۔گو اللہ تعالیٰ کا ) عام انعام انسانوں سے لے کر سانپوں، اثر د ہاؤں تک کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔“ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 118۔اردو ترجمہ عربی عبارت از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 116) صفت رحیم کی وجہ سے یہ انعام ملتا ہے۔تو ان انعام یافتہ لوگوں کی تعریف اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی ہے کہ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (النساء: (70) اور جو لوگ بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔تو رحیمیت سے فیض حاصل کرنا بعض عمل چاہتا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس میں سے جو بنیادی چیز ہے وہ اللہ اور رسول کی کامل اور مکمل اطاعت ہے تبھی انعام یافتہ ٹھہریں گے۔عبادتوں کے معیار بھی بلند کرنے