خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 59
59 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم الرَّحِیم اللہ تعالیٰ کے لئے بھی اور اس کے سوا بھی بولا جاتا ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ پھر اس طرح الر حمن برتر اور اعلیٰ ہے۔تو پھر ادنی کا ذکر اعلیٰ کے بعد کیوں کیا گیا۔یعنی پہلے رحمن اور پھر رحیم۔تو کہتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے بڑا عظیم جو ہوتا ہے اس سے معمولی اور سہل الحصول چیز طلب نہیں کی جاتی۔حکایت ہے کہ کوئی شخص کسی بڑے آدمی کے پاس گیا اور کہا کہ میں ایک معمولی سے کام کے لئے حاضر ہوا ہوں۔جس پر اس بڑے آدمی نے کہا کہ معمولی کام کے لئے کسی معمولی شخص کے پاس جاؤ تو گویا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم رحمن کے ذکر پر رک جاؤ تو مجھ سے مانگنے سے جھجھکتے اور شرماتے رہو گے۔اور معمولی معمولی ضروریات مجھ سے مانگنے سے رک جاؤ گے لیکن جیسا کہ تم مجھے جانتے ہو کہ میں رحمن ہوں اور اس حوالے سے تم مجھ سے بڑی بڑی چیزیں طلب کرتے ہو۔ویسا ہی میں رحیم بھی ہوں۔پس تم مجھ سے جوتے کا تسمہ بھی طلب کرو اور اپنی ہنڈیا کا نمک بھی مانگو۔(تفسیر کبیر از علامه فخرالدین رازى تفسير سورة الفاتحه الفصل الثالث في تفسير قوله الرحمن الرحيم الفائدة الثانية | پھر علامہ رازی فرماتے ہیں کہ وہ رحمان ہے اس نسبت سے کہ وہ ایسی تخلیق کرتا ہے کہ جس کی طاقت بندہ نہیں رکھتا اور وہ رحیم ہے اس نسبت سے کہ وہ ایسے افعال کرتا ہے کہ جیسے افعال کر ہی نہیں سکتا۔گویا وہ فرماتا ہے کہ میں رحمن ہوں کیونکہ تم ایک حقیر سے نطفہ کا ذرہ میرے سپرد کرتے ہو تو میں تمہیں بہترین شکل وصورت عطا کرتا ہوں۔نیز میں رحیم ہوں کیونکہ تم ناقص اطاعت مجھے دیتے ہومگر میں تمہیں اپنی خالص جنت عطا کرتا ہوں۔(تفسیر کبیر از علامه فخرالدین رازى تفسير سورة الفاتحه الفصل الثالث في تفسير قوله الرحمن الرحيم الفائدة الرابعة) | تو یہ چند بڑے بڑے مفسرین کا مختصر بیان میں نے کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذو العقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے۔اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے“۔ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحه 243 یعنی اس صفت سے اگر فیض اٹھانا ہے تو ہر انسان جو عقل اور شعور رکھتا ہے اپنی عاجزی اور انکساری کو بڑھائے اور دعا اور تضرع کی طرف توجہ کرے اور سبھی پھر فیض حاصل ہو گا۔تکبر اور غرور اپنے اندر سے نکالو گے تبھی صفت رحیمیت سے فیض پاؤ گے۔یعنی نیک اعمال ہوں گے تو فیض سے حصہ ملے گا کیونکہ اگر کسی بھی قسم کی بڑائی ہوتو اللہ تعالیٰ کے حضور اُس عاجزی سے انسان حاضر ہو ہی نہیں سکتا جو اس کے ایک عبد بننے کے لئے ضروری ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا تقاضا ہے کہ اپنی ہستی کو کچھ نہ سمجھے، اپنے وجود کو کچھ نہ سمجھے، اپنی ذات کو کوئی حقیقت نہ دے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں مزید فرماتے ہیں ” الرَّحِیم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه (373