خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 58
خطبات مسرور جلد پنجم 58 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء تفسیر الجامع لاحکام القرآن۔یہ ہے ابو عبد الله حمد بن احمد الانصاری القرطبی کی۔یہ کہتے ہیں کہ الرحمن کے ساتھ ہی الرحیم کی صفت لانے کی حکمت بیان کرتے ہوئے محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ فضل کی عطا کے بعد دوسری عطا ہے۔اور ایک انعام کے بعد دوسرا انعام ہے۔خدا کی رحمت کی امید رکھنے والوں کی امیدوں کو تقویت بخشنے کے لئے ہے۔اور ایک ایسا وعدہ ہے جس کے وفا ہونے کی امید رکھنے والا کبھی نا مراد نہیں رہتا۔پھر کہتے ہیں کہ جمہورعلماء کا قول ہے کہ الرحیم نام کے اعتبار سے عام ہے اور اپنے اظہار کے لحاظ سے خاص مختص ہے۔پھر اسی میں لکھتے ہیں کہ ابو علی فارسی رحمن کی صفت بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ جبکہ الرَّحِیم کی صفت صرف مومنین کے حوالے سے آتی ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الاحزاب : 44) عبدالمالک العرزمی کہتے ہیں کہ صفت رحیم مومنوں کو ہدایت عطا کرنے اور ان پر لطف و کرم کرنے کے لئے آتی ہے۔ابن المبارک کہتے ہیں کہ الرحمن وہ ہے کہ جس سے جب بھی مانگا جائے وہ عطا کرتا ہے اور اَلرَّحِیم وہ ہے کہ جس سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔چنانچہ ترندی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ لَّمْ يَدْعُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ غَضِبَ عَلَيْهِ یعنی جوشخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا اور اس سے مانگتا نہیں اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔(سنن ابن ماجه كتاب الدعا باب فضل الدعا حدیث نمبر (3827 ایک شاعر نے اس مضمون کو اپنے الفاظ میں یوں ڈھالا ہے۔اللَّهُ يَغْضَبُ إِنْ تَرَكْتَ سُوَّالَهُ روری وَبُنَى آدَمَ حِيْنَ يُسْتَلُ يَغْضَبْ یعنی اللہ وہ ہے کہ اگر تو اس سے سوال کرنا اور مانگنا چھوڑ دے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔جبکہ اس کے مقابل بعض انسانوں کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی ان سے مانگ بیٹھے تو اس پر ناراض ہو جاتے ہیں۔تو دیکھ لیں یہی چیز ہوتی ہے۔کوئی پیچھے پڑ جائے کوئی چیز مانگنے کے تو آخر تنگ آ کر دے تو دیتے ہیں۔لیکن آگے سے پھر جھڑک بھی دیتے ہیں کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔پھر انہی کے بیان میں حوالہ ہے مہدوی کا۔کہتے ہیں کہ مہدوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں رحیم لا کر یہ بتایا ہے کہ تم رحیم یعنی محمد عبید اللہ کے وسیلے سے ہی مجھ تک پہنچ سکتے ہو۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پوچھنے پر رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ الرحمن اس اعتبار سے ہے کہ وہ مخلوق میں سے ہر نیک و بد پر مہربانی کرنے والا ہے۔اور الرحیم کی صفت خاص مومنوں پر رفق کرنے کے اعتبار سے ہے۔(تفسير الجامع لاحكام القرآن جلد اول خطبة المصنف، صفحه 57-156 ایڈیشن 2004ء بیروت) بعض جگہ صفت رحمن کا بھی ذکر آ جائے گا۔تو یہ اس لئے ضروری ہے کہ رحمن اور رحیم کے جو الفاظ ہیں ان کا مادہ ایک ہے۔تو اس لحاظ سے مقابلہ کرنے کے لئے بعض جگہ دوبارہ دوہرایا جائے گا۔جو ہو سکتا ہے پہلے بھی ہو چکا ہے۔الرحمن۔علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ الرحمن کا نام اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے۔جبکہ