خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد پنجم 57 6 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء (فرموده مورخه 09 فروری 2007 ء ( 09 تبلیغ 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (النحل : 19) گزشتہ چند خطبوں سے میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن کا ذکر کر رہا تھا، آج میں صفت رحیم کے تحت کچھ بیان کروں گا۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ جو قرآن کریم کی پہلی سورۃ ہے اور جسے ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کی جو تیسری صفت بیان ہوئی ہے وہ الرَّحِیم ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تیسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو تیسرے درجہ کا احسان ہے رحیمیت ہے۔جس کو سورہ فاتحہ میں الرحیم کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے۔اور قرآن شریف کی اصطلاح کے رو سے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییع اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے“۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحه 249 اس لفظ اور صفت کی وضاحت میں بعض علماء اور مفسرین نے جو معنے کئے ہیں وہ میں مختصر بیان کرتا ہوں۔اس کے بعد پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ان کو بیان کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے بعد یا آپ کی کسی وضاحت کے بعد کسی اور سند کی ضرورت تو نہیں ہوتی لیکن اس بیان کرنے سے یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نگاہ جس کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے بصیرت اور بصارت عطا کی گئی تھی ، وہ آپ ہی کا حصہ ہے کیونکہ آپ ہی وہ مسیح و مہدی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آئے۔بہر حال مختصر پہلے مفسرین اور علماء کی تفسیر پیش کرتا ہوں جس سے اس لفظ کے معانی پر روشنی پڑتی ہے۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ الرحیم اُسے کہتے ہیں جس کی رحمت بہت زیادہ ہو۔اقرب الموارد کہتی ہے کہ الرحیم رحم کرنے والا۔نیز یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔بہر حال لغوی بحث جو بھی ہے اس میں اس طرح کے ملتے جلتے معانی ملتے ہیں۔اس لئے ان کو چھوڑتا ہوں اور بعض مفسرین کی اس لفظ کے تحت جو تفسیر بیان ہوئی ہے وہ بیان کرتا ہوں۔اس کے بعد جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے اس صفت کے بارے میں بیان کروں گا۔