خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 56
خطبات مسرور جلد پنجم 56 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء عام مخلوق کے لئے آپ کا جذبہ ہمدردی انتہائی بڑھا ہوا تھا لیکن جو لوگ آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے ہوں، جو لوگ روشنی دیکھ کر اسے تاریکی کہیں ، جو علم رکھتے ہوئے جاہلوں کی طرح ضد کریں اور عوام الناس کو بھی اندھیروں میں لے جارہے ہوں، ان کے لئے تو دعانہیں نکلتی۔اعلیٰ کے لئے ادنی کو قربان کرنا پڑتا ہے۔تو یہ بھی جذ بہ رحم اور ہمدردی کی وجہ سے تھا کہ جو آپ نے ان کے لئے بددعا کی۔بے شک آپ نے یہ بد دعا تو کی لیکن یہ حد سے بڑھے ہوؤں کے لئے بددعا تھی۔اور یہ دعا مخلوق کی اکثریت سے ہمدردی کے جذبے کی وجہ سے تھی ، ان پر رحم کھاتے ہوئے تھی۔اللہ تعالیٰ نے یقینا آپ کی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دیا ہے۔سعید روحیں روز ہم دیکھتے ہیں سلسلے میں داخل ہوتی ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتا ہے اور نور محمدی معلم دنیا میں پھیل رہا ہے۔آج ہم مسیح محمدی کے غلاموں کا بھی کام ہے کہ آپ کی دعاؤں کو اپنی دعاؤں میں شامل کریں اور آپ کی دعاؤں سے بھی حصہ لیں۔آپ کی تعلیم کو اپنے عملوں پر لاگو کرتے ہوئے مخلوق خدا سے جذ بہ ہمدردی کے تحت اس پیغام کو بھی لوگوں تک پہنچائیں اور اپنی دعاؤں کو اپنی استعدادوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ کریں تا کہ جس نور محمد کو پھیلانے کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے، اس میں ہم بھی نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ کانعرہ لگاتے ہوئے شامل ہو جا ئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 23 فروری تا 1 یکم مارچ 2007 ، ص 5 تا 8 )