خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 55
55 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم لوگ سچائی کو نہ سمجھیں اور حقیقت کو دریافت نہ کریں اور تکفیر کی طرف دوڑیں میں ان کا کیا علاج کروں۔میں اس بیمار دار کی طرح جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے ایسا تیمار دار مریض کی تیمارداری کرنے والا جو اپنے عزیز بیمار کے غم میں مبتلا ہوتا ہے اس ناشناس قوم کے لئے سخت اندوہ گین ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا، اے بادی اور رہنما ان لوگوں کی آنکھیں کھول اور آپ ان کو بصیرت بخش اور آپ ان کے دلوں کو سچائی اور راستی کا الہام بخش اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دعائیں خطا نہیں جائیں گی۔کیونکہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کی طرف بلاتا ہوں۔یہ سچ ہے کہ اگر میں اُس کی طرف سے نہیں ہوں اور ایک مفتری ہوں تو وہ بڑے عذاب سے مجھ کو ہلاک کرے گا کیونکہ وہ مفتری کو کبھی وہ عزت نہیں دیتا کہ جو صادق کو دی جاتی ہے“۔اپنے شعر میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ (آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحه (324 گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے (آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحه 225 مطبوعه (ربوه پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو راہ راست پر لانے اور عذاب سے بچانے کے لئے آپ فرماتے ہیں کہ: اکثر دلوں پر کب دنیا کا گرد بیٹھا ہوا ہے۔خدا اس گرد کو اٹھاوے، خدا اس ظلمت کو دور کرے، دنیا بہت ہی بے وفا اور انسان بہت ہی بے بنیاد ہے۔مگر غفلت کی سخت تاریکیوں نے اکثر لوگوں کو اصلیت کے سمجھنے سے محروم رکھا ہے خداوند کریم سے یہی تمنا ہے کہ اپنے عاجز بندوں کی کامل طور پر دستگیری کرے اور جیسے انہوں نے اپنے گزشتہ زمانہ میں طرح طرح کے زخم اٹھائے ہیں ویسا ہی ان کو مرہم عطا فرمادے اور ان کو ذلیل و رسوا کرے جنہوں نے نور کو تاریکی اور تاریکی کو نور سمجھ لیا ہے اور جن کی شوخی حد سے زیادہ بڑھ گئی اور نیز ان لوگوں کو بھی نادم اور منفعل کرے شرمندہ کرے ) جنہوں نے حضرت احدیت کی توجہ کو جو عین اپنے وقت پر ہوئی قیمت نہیں سمجھا۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آنا ) اور اس کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ جاہلوں کی طرح شک میں پڑے۔سو اگر اس عاجز کی فریاد میں رب العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں جونورمحمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور الہی طاقتیں عجائبات دکھلاویں“۔(مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه 513-512 مکتوب نمبر 5 بنام میر عباس علی صاحب محرره 9 فروری 1883ء جدید ایڈیشن)